مودی حکومت میں افسران پر گھٹن طاری! آچاریہ سمیت 8 بڑے افسران قبل از وقت مستعفی

سال 2014 میں پہلی بار اقتدار میں آئی مودی حکومت میں اب تک مختلف اسباب کی بنا پر 7 بڑے افسر وقت سے پہلے اپنا عہدہ چھوڑ چکے ہیں۔ ان میں مشیر، اہم کمیٹیوں و کمیشنوں کے رکن اور آر بی آئی افسر شامل ہیں۔

نریندر مودی اور امت شاہ
نریندر مودی اور امت شاہ
user

قومی آوازبیورو

آر بی آئی کے ڈپٹی گورنر وِرل آچاریہ کے اچانک عہدہ چھوڑنے سے مودی حکومت کے داخلی کام کاج کے طریقے پر ایک بار پھر سوال کھڑے ہو گئے ہیں۔ وِرل آچاریہ نے مدت کار پورا ہونے کے قریب چھ مہینے پہلے اپنا عہدہ چھوڑا ہے۔ مودی حکومت میں آر بی آئی کو یہ 7 مہینے کے اندر دوسرا بڑا جھٹکا لگا ہے۔ اس سے پہلے اُرجت پٹیل نے بھی وقت سے پہلے آر بی آئی گورنر کا عہدہ چھوڑ دیا تھا۔ وِرل آچاریہ نے 23 جنوری 2017 کو ڈپٹی گورنر کا عہدہ سنبھالا تھا اور ان کی مدت کار تین سال کے لیے تھی۔

وِرل آچاریہ پہلے بڑے افسر نہیں ہیں جنھوں نے مودی حکومت میں استعفیٰ دیا ہے۔ گزشتہ پانچ سال کے دوران مودی حکومت میں اہم عہدوں پر رہے سات بڑےا فسروں نے وقت سے پہلے اچانک اپنا عہدہ چھوڑا ہے۔ ان میں سے کچھ نے عہدہ چھوڑنے کے پیچھے ذاتی اسباب بتائے، تو وہیں کچھ افسران کی حکومت سے ٹکراؤ کی خبریں بھی عام ہوئیں۔ آئیے جانتے ہیں ایسے ہی کچھ افسران کے نام جنھوں نے مودی حکومت میں مدت کار مکمل ہونے سے قبل ہی اپنا عہدہ چھوڑ دیا۔

اسٹیٹسٹکس کمیشن کے اراکین نے ٹکراؤ کے بعد چھوڑا عہدہ

اسی سال جنوری میں این ایس سی یعنی نیشنل اسٹیٹسٹکس کمیشن کے دو آزاد اراکین پی سی موہنن اور جے وی میناکشی نے استعفیٰ دیا۔ دونوں اراکین کے استعفے کے پیچھے لیبر فورس سروے کے اعداد و شمار کو جاری کرنے کو لے کر حکومت سے ٹکراؤ کو وجہ بتایا گیا۔

اُرجت پٹیل

آر بی آئی گورنر عہدہ پر رہے ارجت پٹیل نے دسمبر 2018 میں اپنے عہدہ سے اچانک استعفیٰ دے دیا تھا۔ ان کی مدت کار ستمبر 2019 میں ختم ہونے والی تھی۔ حالانکہ ارجت پٹیل نے استعفیٰ کی وجہ ذاتی اسباب کو بتایا تھا، لیکن خبر تھی کہ پٹیل کو آر بی آئی فنڈ اور اس کی خودمختاری کو لے کر سرکاری کی جانب سے کی جا رہی رخنہ اندازی کی وجہ سے استعفیٰ دینا پڑا۔ ماہر معیشت پٹیل نے نوٹ بندی سے دو مہینے پہلے ستمبر 2016 میں آر بی آئی گورنر کا عہدہ سنبھالا تھا۔

اروند سبرامنیم

مودی حکومت کی پہلی مدت کار میں حکومت ہند کے چیف معاشی مشیر رہے اروند سبرامنیم نے جون 2018 میں وقت سے پہلے اپنا عہدہ چھوڑ دیا تھا۔ ان کے عہدہ چھوڑنے سے پہلے ہی اس وقت کے مرکزی وزیر مالیات ارون جیٹلی نے فیس بک پر پوسٹ لکھ کر دعویٰ کیا تھا کہ سبرامنیم نے فیملی ایشوز کی وجہ سے امریکہ لوٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سرجیت بھلّا

مودی حکومت میں وزیر اعظم کے معاشی مشیر کونسل کے پارٹ ٹائم رکن رہے جانے مانے ماہر معیشت سرجیت بھلا نے گزشتہ سال دسمبر میں اپنے عہدہ سے استعفیٰ دیا تھا۔ انھوں نے ٹوئٹر کے ذریعہ عہدہ چھوڑنے کی جانکاری دی تھی۔

اروند پنگڑھیا

مودی حکومت میں وجود میں آئی نیتی آیوگ کے پہلے ڈپٹی چیئرمین اروند پنگڑھیا نے جون 2017 میں وقت سے پہلے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ پنگڑھیا کو جنوری 2015 میں نیتی آیوگ کا پہلا ڈپٹی چیئرمین بنایا گیا تھا۔ ہند-امریکی ماہر معیشت پنگڑھیا نے استعفیٰ کے پیچھے کولمبیا یونیورسٹی کی ملازمت کو وجہ بتاتے ہوئے کہا تھا کہ کولمبیا یونیورسٹی انھیں مزید ایکسٹنشن نہیں دے رہا۔

وجے لکشمی جوشی

2014 میں مودی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد کافی شور شرابے کے ساتھ شروع کیے گئے ’سوچھ بھارت مہم‘ کا جب 2015 میں ایک سال مکمل ہونے کو تھا، تبھی اچانک سے مہم کی سربراہ رہیں آئی اے ایس افسر وجے لکشمی جوشی نے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔ اتنا ہی نہیں، 1980 بیچ کی گجرات کیڈر کی افسر جوشی نے بعد میں خدمات مکمل ہونے کے تین سال پہلے ہی خود اپنی خوشی سے ریٹائرمنٹ بھی لے لیا۔ حالانکہ انھوں نے استعفیٰ کے پیچھے ذاتی وجہ بتائی تھی، لیکن ذرائع کے مطابق جوشی سوچھتا مہم میں بغیر کسی مشورہ اور مذاکرہ کے طے کیے جا رہے اہداف اور اس سے مشن کو لے کر وضاحت نہ ہونے سے ناراض بتائی جا رہی تھیں۔

Published: 24 Jun 2019, 11:10 PM