’کیا ججوں پر حملہ ہونے کا انتظار کر رہے ہیں؟‘ ہائی کورٹ کا دہلی پولیس سے سخت سوال
دہلی ہائی کورٹ نے دہلی پولیس کے افسران سے پوچھا کہ جب دوسری ریاستیں ججوں کی سیکورٹی کے انتظامات کر سکتی ہیں تو دہلی جیسے بڑے شہر میں ایسا کرنے میں کیا پریشانی ہے؟

دہلی ہائی کورٹ نے قومی راجدھانی میں ججوں کی حفاظت کے معاملے پر دہلی پولیس کو سخت پھٹکار لگائی ہے۔ سیکورٹی سے متعلق ایک اہم معاملے میں سماعت کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ نے پولیس افسران سے متعدد سوالات پوچھے۔ عدالت نے کہا کہ جب ملک کے کئی صوبوں میں ججوں کو پرسنل سیکورٹی آفیسر (پی ایس او) ملتے ہیں تو دہلی میں ایسا کیوں نہیں ہو رہا ہے؟ اس معاملے میں جسٹس منوج جین نے سماعت کے دوران دہلی پولیس کے رُخ پر بھی سخت برہمی کا اظہار کیا۔
یہ معاملہ دہلی جوڈیشیل سروس ایسوسی ایشن کی عرضی سے متعلق ہے۔ سماعت کے دوران جسٹس منوج نے کہا کہ ’’ججوں کو سیکورٹی فراہم کرنا کوئی خیرات نہیں ہے، بلکہ یہ ان کی حفاظت اور عدلیہ کی آزادی کے لیے ضروری ہے۔‘‘ عدالت نے پولیس سے پوچھا کہ ’’کیا وہ صرف تب ہی سیکورٹی دیں گے جب کسی جج کو خطرہ ہوجائے۔‘‘ عدالت کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے جیسے کسی پر حملہ ہونے کا انتظار کیا جا رہا ہے، جبکہ ماحول ایسا ہونا چاہئے کہ جج بلا خوف و خطر اپنا کام کر سکیں۔
عرضی گزار کے وکیل نے بتایا کہ مہاراشٹر، آندھرا پردیش، پنجاب اور گجرات جیسے صوبوں میں ججوں کو پہلے سے ہی پی ایس او کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ججوں کو صرف گھر کے اندر ہی نہیں باہر بھی سیکورٹی ملنی چاہئے۔ اس معاملہ میں دہلی ہائی کورٹ نے مشورہ دیا کہ حکومت کو اس کے لیے بجٹ مختص کرنا چاہئے کیونکہ دہلی میں 700 سے زیادہ جوڈیشیل آفیسرز ہیں۔ سماعت کے دوران عدالت نے افسران سے پوچھا کہ جب دوسری ریاستیں ایسے انتظامات کر سکتی ہیں تو دہلی جیسے بڑے شہر میں ایسا کرنے میں کیا پریشانی ہے، جہاں جرائم کی سطح کافی زیادہ ہے؟ دہلی ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ اگر ججوں کی سیکورٹی کو نظر انداز کیا گیا تو اس سے عدلیہ کی آزادی پر اثر پڑے گا جو کسی بھی صورت میں مناسب نہیں ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔