تعلیم کے معاملے پر طلبہ کی تحریک کو دبانے کی ہر کوشش ناکام ہوگی: دیپانکر بھٹاچاریہ
دیپانکر بھٹاچاریہ نے کہا کہ ’’تعلیم کا سوال صرف طلبہ تک محدود نہیں رہ گیا ہے، بلکہ یہ نئی نسل اور معاشرے کے مختلف طبقات کا مشترکہ مسئلہ بن چکا ہے۔‘‘

تعلیم میں بدعنوانی، پیپر لیک، فیسوں میں اضافہ، یونیورسٹیوں کی خودمختاری پر مبینہ حملوں اور طلبہ کی تحریکوں پر کارروائی کے معاملے کو لے کر سی پی آئی (ایم ایل) نے اتوار کو مرکزی حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری دیپانکر بھٹاچاریہ نے کہا کہ تعلیم کے سوال پر ملک بھر میں جاری طلبہ کی تحریک کو دبانے کی ہر کوشش ناکام ہوگی اور یہ تحریک مسلسل وسیع ہوتی جا رہی ہے۔
پٹنہ کے گاندھی میدان کے قریب آئی ایم اے ہال میں منعقدہ پریس کانفرنس میں دیپانکر بھٹاچاریہ نے کہا کہ تعلیم کا سوال صرف طلبہ تک محدود نہیں رہ گیا ہے، بلکہ یہ نئی نسل اور معاشرے کے مختلف طبقات کا مشترکہ مسئلہ بن چکا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بہار سے لے کر دہلی تک طلبہ، نوجوان، مزدور اور محنت کش طبقہ اس جدوجہد کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ ویڈیو بیان پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ طلبہ کو معافی دینے کی بات کی آڑ میں قدامت پسند اور پدرشاہی سوچ کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک 15 سالہ طالبہ تک کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق نئی نسل کے ساتھ کھڑا ہونا جمہوریت اور تعلیمی نظام کے تحفظ کا سوال ہے۔
دہلی میں طلبہ پر ہوئے لاٹھی چارج کا ذکر کرتے ہوئے دیپانکر بھٹاچاریہ نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر تعلیم کے بعد اب وزیر داخلہ کی جوابدہی بھی طے ہونی چاہیے۔ ساتھ ہی الزام عائد کیا کہ مقدمات واپس لینے کے اعلان کے باوجود تحریک سے جڑے تمام معاملات کو واپس نہیں لیا جا رہا ہے، جو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ پریس کانفرنس میں موجود سی پی آئی (ایم ایل) کے رکن اسمبلی سندیپ سوربھ نے کہا کہ ملک بھر کے طلبہ اور نوجوانوں میں مرکزی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف گہرا غصہ ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ طلبہ کی تحریک، خاص طور پر طالبات کو نشانہ بنا کر اسے کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی بہار کی یونیورسٹیوں کی خودمختاری ختم کرنے اور فیسوں میں اضافے کے ذریعے غریب طلبہ کو اعلیٰ تعلیم سے باہر کرنے کا الزام عائد کیا۔
’آئیسا‘ کے بہار ریاستی صدر دھننجے، سکریٹری دیپانکر مشرا اور نائب صدر صبا آفرین نے کہا کہ تنظیم بہار میں تعلیم اور امتحانی نظام میں وسیع پیمانے پر اصلاحات کے مطالبے کو لے کر تحریک جاری رکھے گی۔ انہوں نے گریجویشن میں 7.5 سی جی پی اے کی شرط ہٹانے، پی ایچ ڈی کی فیسوں میں اضافہ واپس لینے اور نان-نیٹ فیلوشپ نافذ کرنے کا مطالبہ دوہرایا۔ ساتھ ہی الزام عائد کیا کہ گاندھی میدان میں پرامن مظاہرے کے دوران کئی طلبہ اور نوجوانوں کے ساتھ پولیس نے بربریت کی اور کئی لوگوں کو بغیر اطلاع کے حراست میں رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ظلم کی سیاست کا جواب جمہوری تحریک سے دیا جائے گا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
