کنہیا کمار پر چلے گا ملک سے غداری کا کیس، انوراگ کشیپ نے کیجریوال پر کیا حملہ

دہلی حکومت نے ملک سے غداری کے 4 سال پرانے ایک معاملے میں جے این یو طلبا یونین کے سابق صدر کنہیا کمار اور 9 دیگر لوگوں پر مقدمہ چلانے کے لیے دہلی پولس کو منظوری دے دی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

دہلی حکومت نے جے این یو طلبا یونین کے سابق صدر کنہیا کمار سمیت دیگر 9 لوگوں پر ملک سے غداری کا مقدمہ چلانے کی اجازت دے دی ہے۔ اس خبر کے پھیلنے کے بعد بالی ووڈ کے مشہور و معروف ہدایت کار انوراگ کشیپ نے دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے طنزیہ انداز میں ٹوئٹ کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ ’’کیجریوال جی، کتنے میں بِکے۔‘‘

اپنے ٹوئٹ میں انوراگ کشیپ نے سیدھے طور پر اروند کیجریوال کو نشانہ بنایا ہے اور کنہیا کمار پر ملک سے غداری کا کیس چلائے جانے کو منظوری دیے جانے پر طنز کیا ہے۔ انھوں نے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’جناب اروند کیجریوال جی، آپ کو کیا کہیں۔ اسپائن لیس تو تعریف ہے، آپ تو ہو ہی نہیں... عآپ تو ہے ہی نہیں... کتنے میں بکے؟‘‘ انوراگ کشیپ نے کیجریوال پر یہ حملہ کنہیا کمار کے اس ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے کیا ہے جس میں انھوں نے خود پر ملک سے غداری کا کیس چلائے جانے کی بات کہی تھی۔

واضح رہے کہ کنہیا کمار نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ ’’دہلی حکومت کو سیڈیشن (ملک سے غداری) کیس کی اجازت دینے کے لیے شکریہ۔ دہلی پولس اور سرکاری وکیلوں سے گزارش ہے کہ اس کیس کو اب سنجیدگی سے لیا جائے۔ فاسٹ ٹریک عدالت میں اسپیڈی ٹرائل ہو اور ٹی وی والی ’آپ کی عدالت‘ کی جگہ قانون کی عدالت میں انصاف یقینی بنایا جائے۔ ستیہ میو جیتے۔‘‘

غور طلب ہے کہ 9 فروری 2016 کو جے این یو احاطہ میں نعرہ بازی کے ویڈیو سامنے آئے تھے۔ اس کے بعد دہلی پولس نے ان ویڈیوز کی جانچ کی تھی اور اس وقت کے جے این یو طلبا یونین صدر کنہیا کمار سمیت دیگر کے خلاف ملک سے غداری کا کیس درج کیا تھا۔ الزام لگایا گیا کہ ویڈیو میں نظر آ رہے لوگوں نے جے این یو احاطہ میں ملک مخالف نعرہ بازی کی تھی اور اس میں کنہیا کمار شامل تھے۔ فی الحال کنہیا کمار سی پی آئی کے لیڈر ہیں۔