بی جے پی کارکنان پست، 5 میں سے 4 انتخابی ریاستوں میں اقتدار مخالف لہر

بی جے پی انچارج کے دورے میں بڑی تعداد میں پرانے اور سینئر کارکنان حکومت کے کام کے طریقوں اور موجودہ اراکین اسمبلی کے رویے پر ناراضگی ظاہر کر رہے ہیں۔

پی ایم مودی، تصویر یو این آئی
پی ایم مودی، تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

آئندہ سال 2022 کی شروعات میں ملک کی جن ریاستوں میں اسمبلی انتخاب ہونے والے ہیں، ان میں سے 4 ریاستوں یعنی اتر پردیش، اتراکھنڈ، گوا اور منی پور میں بی جے پی برسراقتدار ہے۔ بی جے پی کو ان چاروں ریاستوں میں زبردست اقتدار مخالف لہر کا خوف ستا رہا ہے اور پارٹی کارکنان بھی پست ہیں۔ ایسے میں پارٹی نے کارکنان میں جوش بھرنے کے لیے خاص پالیسی تیار کی ہے۔

دراصل بی جے پی کا مقصد اقتدار مخالف لہر کی تھیوری کو خارج کرتے ہوئے پھر سے حکومت بنانا ہے۔ لوک سبھا میں سب سے زیادہ 80 اراکین پارلیمنٹ چن کر بھیجنے والی ریاست اتر پردیش میں بی جے پی 2017 سے بھی زیادہ سیٹیں جیت کر پھر سے حکومت بنانے کے مشن میں لگی ہے۔ اتراکھنڈ ریاست کی تشکیل کے بعد سے ہی وہاں کوئی بھی سیاسی پارٹی لگاتار دوسری بار اقتدار میں نہیں آ پائی ہے۔ بی جے پی اس پہاڑی ریاست میں پھر سے اکثریت حاصل کر اس بار اس سوچ کو توڑنا چاہتی ہے۔ وہیں شمال مشرقی ریاست منی پور میں بھی بی جے پی لگاتار دوسری بار حکومت بنانے کے ہدف کو لے کر تیاری کر رہی ہے۔


اُدھر گوا میں 2012 اور 2017 میں حکومت بنانے والی بی جے پی اس بار ریاست کے اپنے سب سے مقبول لیڈر منوہر پاریکر کی غیر موجودگی میں انتخاب لڑ رہی ہے۔ 2017 میں علاقائی پارٹیوں اور آزاد اراکین اسمبلی کے تعاون سے کسی طرح حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی۔ بی جے پی اس بار اپنے دم پر ریاست میں اکثریت حاصل کر حکومت بنانے کا ہیٹرک لگانا چاہتی ہے۔

بی جے پی نے سبھی انتخابی ریاستوں کے لیے گزشتہ مہینے 8 ستمبر کو ہی انتخابی انچارج اور معاون انچارجوں کے نام کا اعلان بھی کر دیا تھا۔ اس کے بعد سے ہی یہ تمام لیڈر اپنے اپنے اثر والی انتخابی ریاستوں کا دورہ کر رہے ہیں اور ریاستی کارکنان اور تنظیم کے نئے پرانے لیڈروں سے ملاقات کر فیڈ بیک بھی لے رہے ہیں۔


ذرائع کے مطابق ان دوروں میں بڑی تعداد میں پارٹی کے پرانے اور سینئر کارکنان حکومت کے کام کے طور طریقوں اور موجودہ اراکین اسمبلی کے رویے کو لے کر اپنی ناراضگی ظاہر کر رہے ہیں۔ ایسے میں ووٹروں کا اعتماد حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف بی جے پی کو اپنے کارکنان کو بھی منانا پڑ رہا ہے۔

آئی اے این ایس سے بات چیت میں پارٹی کے ایک بڑے لیڈر نے بتایا کہ 18 اکتوبر کو پارٹی کے قومی ہیڈکوارٹر میں ہوئی پارٹی عہدیداران کی میٹنگ میں بھی اس بات کو لے کر بحث ہوئی تھی کہ دنیا کی سب سے بڑی پارٹی بی جے پی اپنے کروڑوں کارکنان بہتر استعمال کیسے کرے۔ اسی میٹنگ میں پارٹی کے سرکردہ لیڈر نے کہا کہ بی جے پی سیاسی ایجنڈے پر کام کرنے والی ایک عام سیاسی پارٹی نہیں ہے، بلکہ تعمیر وطن میں مصروف ایک تنظیم ہے اور بات پارٹی کے سبھی کارکنان کو سمجھنے اور سمجھانے کی ضرورت ہے۔


کارکنان کی ہمت کو اونچا رکھنے کے لیے انھیں لگاتار تعمیر وطن کے لیے ترغیب کرتے رہنے کی بات کہی گئی، وہیں پارٹی کے ذرائع یہ بھی بتا رہے ہیں کہ پارٹی کارکنان کے ناراضگی بھرے فیڈ بیک کی گاج بڑے پیمانے پر موجودہ اراکین اسمبلی پر بھی گر سکتی ہے۔ یعنی آئندہ الیکشن میں انھیں الیکشن لڑنے کی جگہ الیکشن لڑوانے کا حکم دیا جا سکتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔