شاہین باغ میں سی اے اے مخالف دھرنا دوبارہ شروع ہونے کا امکان، علاقے میں پولس فورس تعینات

شاہین باغ میں جس مقام پر خواتین کا سی اے اے مخالف مظاہرہ چل رہا تھا، وہاں کثیر تعداد میں پولس فورس تعینات کر دی گئی ہے اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے آس پاس بھی پولس دستے تعینات کیے گئے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) کے خلاف شاہین باغ میں خواتین کے دوبارہ دھرنے پر بیٹھنے کے امکان کے پیش نظر علاقے میں کثیر تعداد میں پولس فورس تعینات کردی گئی ہے۔ لاک ڈاؤن کھلنے کے پہلے مرحلے میں ہی شاہین باغ میں بدھ کے روز سی اے اے اور این آر سی کے خلاف احتجاج دوبارہ شروع ہونے کی اطلاع ملنے پر دہلی پولس کو الرٹ کردیا گیا ہے۔

شاہین باغ میں جس سڑک پر لاک ڈاؤن سے پہلے 100 دنوں تک خواتین کا دھرنا چلا تھا، وہاں پولس کی ایک بڑی تعداد کو تعینات کیا گیا ہے اور علاقے میں ہرطرح کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جارہی ہے۔ لاک ڈاؤن 5.0 کے دوران قانون و انتظام کو برقرار رکھنے کے لئے احتیاطی تدابیر کے طورپر شاہین باغ کے ساتھ ہی جامعہ ملیہ اسلامیہ اور سکھ دیووہار میٹرو اسٹیشن کے آس پاس بھی پولس دستے تعینات کردیئے گئے ہیں۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنر آف پولس کو الرٹ کردیا گیا ہے اور انہیں کسی بھی علاقے میں احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دینے کو کہا گیاہے۔ واضح رہے کہ شہریت ترمیمی قانون کے حامیوں اور اس کی مخالفت کرنے والوں کے درمیان 23 اور 26 فروری کے درمیان شمال مشرقی دہلی میں پرتشدد فساد ہوا تھا، جس میں 50 سے زائد افراد ہلاک اور تقریباً 200 افراد زخمی ہوئے تھے۔