میوات: سی اے اے مخالف احتجاج، کنکر کھیڑی میں ہوا زبردست مظاہرہ

ایڈوکیٹ کیشو تنور نے کہا کہ یہ ملک نہ کبھی ہندو راشٹر تھا نہ ہے اور نہ ہوگا، روہتک یونیورسٹی سے آئے جسمندر نے کہا کہ ہم سب کو مذہبی شناخت کے ساتھ متحد ہو کر ہر طرح کے ظلم کے خلاف لڑائی لڑنی ہوگی

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز
user

محمد صابر قاسمی میواتی

نوح میوات: ملک کے ساتھ ساتھ دہلی سے ملحقہ مسلم اکثریتی علاقہ میوات میں شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دفعہ 144 کے نفاذ کے باوجود روز بروز عوامی احتجاجی مظاہروں میں شدت دیکھنے کو مل رہی ہے، آج ضلع کے گاؤں کنکر کھیڑی میں میواتیوں کی جانب سے زبردست عوامی احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں کئی ہزار کی تعداد میں مظاہرین کا عوامی سیلاب امڈ پڑا، جس میں دیہی علاقوں کے لوگوں نے بڑھ چڑھ کر شرکت کی اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا۔

میوات: سی اے اے مخالف احتجاج، کنکر کھیڑی میں ہوا زبردست مظاہرہ

واضح رہے کہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرین کئی دیہی علاقوں سے گزرتے ہوئے گاؤں کریہڑا، بھادس، بدرپور اور آکیڑہ سے گاؤں کنکر کھیڑی تک پیدل مارچ کرتے ہوئے پہنچا اور تقریباً آٹھ کلو میٹر کی مسافت طے کی۔ اس درمیان بچے، بوڑھے، نوجوان انقلاب زندہ آباد کے نعرے لگاتے ہوئے کنکر کھیڑی میں لوگ پہونچے۔

اس موقع پر مفتی سلیم ساکرس مفتی نعمان اٹاؤڑی نے عوامی جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزادی وطن کی لڑائی میں ہم پہلے بھی صف اول میں تھے اور آج بھی، جب ملک کے دستور کے بچانے کی ضرورت آن پڑی ہے، ہم اس کے لیے بچے، خواتین، بزرگ سڑکوں پر اتر چکے ہیں۔


ایڈوکیٹ کیشو تنور نے کہا کہ یہ ملک نہ کبھی ہندو راشٹر تھا نہ ہے اور نہ ہوگا، مظاہرہ میں روہتک یونیورسٹی سے شرکت کرنے آئے جسمندر نے کہا کہ ہم سب کو اپنی اپنی مذہبی شناخت کے ساتھ متحد ہو کر ہر طرح کے ظلم کے خلاف لڑائی لڑنی ہوگی، جامعہ ملیہ دہلی سے آئے وسیم اکرم کے علاوہ مفتی سہیل قاسمی ایڈوکیٹ، رشید احمد، فاروق عبداللہ نے بھی مظاہرین سے خطاب کیا۔

میوات: سی اے اے مخالف احتجاج، کنکر کھیڑی میں ہوا زبردست مظاہرہ

وہیں دوسری جانب میوات کے بڑکلی چوک پر جاری غیر معینہ مدت دھرنا آٹھارویں روز جوش و خروش کے ساتھ جاری ہے، جس میں دہلی، الور، پنجاب سے نامور شخصیات نے آج دھرنے میں شرکت کی اور دھرناے پر بیٹھے لوگوں سے خطاب کیا۔ اس موقع پر اکال انڈیا پیس مشن کے قومی آرگنائیزر سردار دیا سنگھ نے کہا کہ مودی سرکار نے غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک کی ہندو، مسلم اتحاد اور آپسی بقائے باہمی خطرہ میں پڑ گئی، اسی لیے لوگ سڑک سے سنسد تک سڑکوں پر اترے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان سبھی مظاہروں کو سکھ برادری کھل کر حمایت کرتی ہے، دیا سنگھ نے کہا کہ 1984 میں سکھوں کے خلاف اس وقت کی سرکار نے کارروائی کی تھی، تو اس وقت مسلم طبقہ نے سکھ برادری کو نہ صرف رہنے اور چھپنے کے لیے جگہ دی تھی، بلکہ اس سے بھی آگے ظلم کے خلاف بر وقت کھڑے ہو گئے تھے۔


ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر مشن کے ضلع آرگنائیزر گوروگرام جگبیر سنگھ پھولیا نے کہا کہ اس وقت بابا بھیم راؤ امبیڈکر کے ذریعے بنائے گئے آئین کے تحفظ کے لئے لوگ شب و روز ایک کیے ہوئے ہیں، یونائٹیڈ اگینسٹ ہیٹ ادارہ کی جانب سے انچارج تمنا پنکج و جامعہ یونیورسٹی کے عامر چوہدری نے کہا گزشتہ 6 سال سے عوام کی امیدوں پر مرکزی سرکار پانی پھیر رہی ہے، اسی لیے کالے قانون کو لاکر سرکار ملک کے عوام کو گمراہ کرنے کا کام کر رہی ہے۔

میوات وکاس فورم کے جنرل سکریٹری آصف علی و کسان لیڈر ڈاکٹر رفیق آزاد نے کہا کہ اس وقت کسان ملک میں خط افلاس کی حد کو پار کر چکا ہے، کانگریسی لیڈر ابراہیم انجینئر نے نے کہا کہ ہماری پارٹی ایسے سبھی قوانین کی پر زور مخالفت کرتی ہے، نائب ضلع پرمکھ ایوب ایڈوکیٹ، پارشد و خلیل ایڈوکیٹ نے کہا کہ حکومت کا سی اے اے قانون تقسیم کرنے والا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔