شاہین باغ میں خواتین کے جلائے ’چراغ‘ نے ملک میں روشن کیے کئی ’شاہین باغ‘

یو پی کے الٰہ آباد و دیوبند میں، بہار کے گیا، کشن گنج و سبزی باغ میں اور مغربی بنگال کے روشن باغ میں ’شاہین باغ‘ کا نظارہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ لاکھ مشکلات کے باوجود خواتین دن-رات سڑک پر بیٹھی ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تنویر احمد

شاہین باغ پورے ہندوستان میں شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف ہو رہے مظاہروں کی روشن مثال بن چکا ہے۔ ہندوستان ہی نہیں پورے ملک میں شاہین باغ اس وقت ایک روشن چراغ کی طرح چمک رہا ہے اور دہلی آنے والا ہر شخص چاہتا ہے کہ تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی، شاہین باغ پہنچ کر خواتین کے عزم و حوصلہ پر مبنی اس مظاہرے میں شریک ہو۔ یوں تو شاہین باغ میں ہو رہے اس مظاہرے میں صرف شاہین باغ کی ہی نہیں بلکہ دہلی کے مختلف علاقوں سے اور ہر مذہب سے تعلق رکھنے والی خواتین شریک ہو رہی ہیں، لیکن اس بات کی تعریف تو کرنی ہی ہوگی کہ شاہین باغ کی عورتوں نے یہاں کا انتظام و انصرام بہت اچھی طرح سنبھال رکھا ہے اور مرد حضرات بھی ہر قدم پر ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔ تقریباً ایک مہینے سے جاری اس تاریخی مظاہرہ کا اثر اب ہندوستان کی دوسری کئی ریاستوں میں بھی نظر آنے لگا ہے۔ آئین مخالف قانون کے خلاف جو چراغ شاہین باغ کی خواتین نے روشن کر رکھا ہے، اس نے ہندوستان میں کئی ’شاہین باغ‘ کی بنیاد ڈال دی ہے۔ ہم یہاں ’قومی آواز‘ کے قارئین کے لیے پیش کر رہے ہیں ہندوستان کی 3 اہم ریاستوں اتر پردیش، بہار اور مغربی بنگال میں شاہین باغ کی طرز پر شروع ہوئے شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر مخالف مظاہرے کی تفصیل جہاں گزشتہ کئی دنوں سے خواتین سرد رات میں بھی اپنے حق کی لڑائی لڑنے سے پیچھے نہیں ہٹ رہیں۔

منصور علی پارک (روشن باغ، الٰہ آباد، اتر پردیش)

اتر پردیش میں لکھنؤ، علی گڑھ اور دیوبند میں سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف خواتین نے شاہین باغ کی طرز پر مظاہرے شروع کر دئیے ہیں لیکن روشن باغ واقع منصور علی پارک میں خواتین کا مظاہرہ سرخیوں میں ہے۔ یہاں 12 جنوری یعنی اتوار سے خواتین نے بی جے پی حکومت کے خلاف علم اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’’اگر دہلی کے شاہین باغ میں خواتین زبردست ٹھنڈ کے باوجود سیاہ قانون (سی اے اے) کے خلاف دھرنے پر بیٹھ سکتی ہیں تو ہم کیوں نہیں۔‘‘ منصور علی پارک میں اتوار کی دوپہر سے جو خواتین اور بچیاں جمع ہونی شروع ہوئی تھیں تو اس کا سلسلہ بڑھتا ہی چلا گیا۔ اس پارک میں سیاسی لیڈروں کی آمد بھی شروع ہو گئی ہے جو خواتین کا حوصلہ بڑھا رہے ہیں اور ہر قدم پر ان کے ساتھ کھڑے ہونے کی بات کہہ رہے ہیں۔ یہاں جمع خواتین اور بچیاں ’ہندوستان ہمارا ہے‘ جیسے نعرے بلند کر رہی ہیں۔

سبزی باغ (پٹنہ، بہار)

بہار کے کئی اضلاع میں بھی خواتین نے شہریت قانون کے خلاف محاذ کھول رکھا ہے۔ کشن گنج اور گیا میں روزانہ احتجاجی مظاہرے کی خبریں آ رہی ہیں لیکن پٹنہ کے سبزی باغ میں گزشتہ اتوار (12 جنوری) کو شروع ہوا مظاہرہ سب سے زیادہ خبروں میں ہے۔ یہاں بھی خواتین بڑی تعداد میں جمع ہونے لگی ہیں اور یہ قدم ’شاہین باغ‘ سے متاثر ہو کر اٹھایا گیا ہے۔ 14 جنوری کو تو جے این یو طلبا یونین کے سابق صدر کنہیا کمار بھی یہاں پہنچے ہوئے تھے اور کچھ میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ کم و بیش 50 ہزار کی بھیڑ منگل کے روز سبزی باغ میں موجود تھی۔ جگہ جگہ ’پیار بانٹو، دیش نہیں‘ اور ’نو سی اے اے، نو این پی آر، نو این آر سی‘ لکھا ہوا بینر نظر آ رہا ہے۔ احتجاجیوں کو یہاں سے ہٹانے کے لیے بہار پولس لگاتار دباؤ بنا رہی ہے لیکن احتجاج میں شریک خواتین کا کہنا ہے کہ وہ پولس کی گولیاں کھانے کو تیار ہیں لیکن احتجاج کرنے سے پیچھے بالکل نہیں ہٹیں گی۔

پارک سرکس میدان (کولکاتا، مغربی بنگال)

کوالکاتا کے پارک سرکس میدان میں خواتین کا احتجاجی مظاہرہ گزشتہ 7 جنوری سے جاری ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں بغیر لائٹ اور ٹینٹ کے خواتین نے شہریت قانون اور این آر سی کے خلاف علم بلند کر رکھا ہے۔ دراصل احتجاجیوں نے مقامی کارپوریشن سے ٹینٹ، لائٹ اور مائک کے لیے اجازت طلب کی تھی لیکن کارپوریشن نے اجازت نہیں دی۔ لیکن خواتین کا حوصلہ پست نہیں ہوا اور وہ سرد رات میں بھی کھلے آسمان کے نیچے مودی حکومت کے خلاف بینر و پوسٹر لے کر بیٹھی رہیں۔ اس اجتماعی مظاہرے کی خبر جب مغربی بنگال کے دوسرے علاقوں میں پہنچی تو بڑی تعداد میں خواتین یہاں جمع ہونی شروع ہو گئیں اور اب حالت یہ ہے کہ پارک سرکس میدان میں بغیر مائک کے ہی مودی حکومت کے خلاف نعرے بلند ہو رہے ہیں۔ خواتین کے ہاتھوں میں ’مذہب کی سیاست بند کرو‘، ’رجیکٹ سی اے اے، بائیکاٹ این آر سی‘ اور ’ڈو ناٹ ڈیوائیڈ انڈینس‘ (ہندوستانیوں کو تقسیم مت کرو)، ’آمرا کاگوج دکھابو نا‘ (ہم کاغذات نہیں دکھائیں گے) جیسے پوسٹر و بینر نظر آ رہے ہیں۔

مہاراشٹر، تلنگانہ، راجستھان وغیرہ میں بھی خواتین سڑکوں پر

دہلی، اتر پردیش، بہار اور مغربی بنگال کے علاوہ مہاراشٹر، تلنگانہ، کرناٹک، راجستھان، مدھیہ پردیش جیسی ریاستوں میں بھی خواتین کہیں نہ کہیں بڑی تعداد میں جمع ہو کر شہریت قانون اور این آر سی کے خلاف اپنی آواز اٹھا رہی ہیں۔ مہاراشٹر کے دھولے، ناگپور اور ممبئی میں خواتین کی کئی ریلیاں و دھرنے منعقد ہوئے اور تلنگانہ کے حیدر آباد میں بھی مسلم خواتین کے ساتھ ساتھ دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والی خواتین بھی اکثر و بیشتر سڑکوں پر نکل کر مودی حکومت کے خلاف نعرہ بلند کرتی ہوئی نظر آئیں۔ راجستھان واقع جے پور اور مدھیہ پردیش واقع بھوپال سے بھی خواتین کے سڑکوں پر آنے کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ہندوستان میں گھروں میں رہنے والی عورتیں اب سڑکوں پر نکلنے کے لیے مجبور ہو گئی ہیں اور شاہین باغ کی عورتوں نے انھیں ایک ایسا راستہ دکھا دیا ہے جس پر چل کر وہ پورے جوش کے ساتھ اپنا احتجاج درج کر سکتی ہیں۔

Published: 15 Jan 2020, 7:30 PM