ممتا کےلئے صدیق اللہ چودھری نے پیدا کی نئی پریشانی، اپنے حلقے انتخاب سے چناؤ لڑنے سے انکار

2016 کے اسمبلی انتخابات میں صدیق اللہ چودھری نے اپنے قریب ترین حریف ، سی پی آئی (ایم) کے شاہجہاں چوہدری کو قریب 12 ہزار ووٹوں کے فرق سے شکست دے کر منگل کوٹ کی نشست پر جیت حاصل کی تھی۔

فائل تصویر یو این آئی
فائل تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

ترنمول کانگریس اور ممتا بنرجی کی پریشانیاں کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ اب مشرقی بردوان ضلع کے منگل کوٹ سے ممبر اسمبلی صدیق اللہ چودھری نے پارٹی کے ضلع قیادت پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے حلقے سے انتخاب نہیں لڑیں گے ۔خیال رہے کہ صدیق اللہ چودھری نےنندی گرام میں تحویل اراضی کے خلاف تحریک میں اہم کردار ادا کیا تھا۔اس کے علاوہ جمعیۃ اور رابطہ مدارس کے صدر ہونے کی وجہ سے ریاست کے مسلمانوں کے ایک بڑے حلقے پر ان کا گہرا اثر و رسوخ ہے ۔

مولانا صدیق اللہ چودھری نے ’’ضلع قیادت میں عدم ڈسپلن،شائشتگی کے فقدان اور پارٹی لیڈروں کی بدسلوکی پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ میں نے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو ضلع قیادت کی لاپرواہی اور بدسلوکی سے متعلق آگاہ کردیا ہے ۔‘‘انہوں نے کہا کہ’’ میرے خیال سے پارٹی لیڈران کی کارکردگی اس قدر بہتر نہیں ہے کہ ہم اس حلقے سے انتخاب لڑیں گے۔‘‘

چودھری نے کہا کہ بردوان ضلع ان کےلئے ’’بھومی پتر‘‘ ہے اور اگر ناقص قیادت کی وجہ سے ضلع ترقی کی راہ پر پیچھے رہ جاتا ہے تو میں خاموش تماشائی نہیں بن سکتا۔ لہذا میں نے اس بار منگل کوٹ سے انتخاب نہیں لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میں نے پہلے ہی اپنے فیصلے سےپارٹی سربراہ کو آگاہ کردیا ہے۔ 2016 کے اسمبلی انتخابات میں صدیق اللہ چودھری نے اپنے قریب ترین حریف ، سی پی آئی (ایم) کے شاہجہاں چوہدری کو قریب 12 ہزار ووٹوں کے فرق سے شکست دے کر منگل کوٹ کی نشست پر جیت حاصل کی تھی۔ اس کے بعد ممتا نے انہیں کابینہ کا وزیر بنا دیا تھا اور انہیں ماس ایجوکیشن ، لائبریری اور پارلیمانی امور کا وزیر مملکت (آزاد چارج) کا قلمدان دیا گیا تھا۔

چودھری نے کانگریس کے ٹکٹ پر 1984 میں لوک سبھا انتخاب لڑا تھا۔اس سے قبل وہ دو مرتبہ اپنی پارٹی سے بشیر ہاٹ لوک سبھا حلقے سے انتخاب میں حصہ لیا تھا۔بعد میں 2016کے اسمبلی انتخاب سے قبل وہ ترنمول کانگریس میں شامل ہوگئےتھے۔

حال ہی میں ، ترنمول کے متعدد لیڈرانپارٹی چھوڑ چکے ہیں اور ان میں سے بہت سے ریاستی انتخابات سے قبل بی جے پی میں شامل ہوگئے ہیں۔ بڑے ناموں میں سابق ریاستی وزیر شوبھندو ادھیکاری، راجیوبنرجی ، ویشالی ڈالمیا، ارندم بھٹاچاریہ ،سنیل منڈل نے ترنمول کانگریس چھوڑکر بی جے پی میں شامل ہوگئے ہیں جب کہ لکشمی رتن شکلا نے وزارت چھوڑ دی ہے اور سیاست سے علیحدہ رہنے کا اعلان کیا ہے ۔

صدیق اللہ چودھری نے کہا کہ اپنے حلقے انتخاب میں 2.99کروڑ روپے خرچ کئے ہیں ۔اور علاقے کی ترقی کےلئے ہرممکن کوشش کی مگر پارٹی کے کچھ لیڈران نے ان کے کاموں میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی ۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔