مدھیہ پردیش میں لاوارث مٹھائی جان لیوا ثابت، دو اموات
مدھیہ پردیش کے چھندواڑہ ضلع کے جننا دیو میں لاوارث مٹھائی کا تھیلا رکھا پایا گیا تھا۔ اس مٹھائی کو کھانے کے بعد گارڈ سمیت متعدد افراد بیمار ہو گئے جن میں سے اب تک دو لوگوں کی موت ہو چکی ہے

اندور میں آلودی پانی سے ہونے والی اموات کے بعد مدھیہ پردیش میں اب لاوارث مٹھائی کھانے سے اموات کی خبر ہے۔ ریاست کے چھندواڑہ ضلع میں اس مٹھائی کو کھانے سے ایک گارڈ سمیت دو لوگوں کی موت ہو چکی ہے جبکہ کئی افراد بیمار ہیں اور اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ اس واقعہ سے علاقے میں خوف و ہراس کا ماحول پایا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق چھندواڑہ ضلع کے جنا دیو میں لاوارث مٹھائی کا تھیلا رکھا پایا گیا تھا۔ اس مٹھائی کو کھانے کے بعد گارڈ سمیت تقریباً 5 لوگ شدید بیمار ہو گئے جن میں سے اب تک دو لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ جنادیو میں پی ایچ ای ڈیپارٹمنٹ کے سامنے ہوٹل میں نامعلوم شخص یہ مٹھائی کا یہ تھیلا چھوڑ کر چلا گیا تھا۔
’اے بی پی‘ نیوز کے مطابق اس تھیلے میں رکھی مٹھائی زہریلی تھی جسے کھانے سے اتوارکو پی ایچ ای ڈپارٹمنٹ کے گارڈ دسرو یدوونشی کی موت ہو گئی۔ اب ایک اور بزرگ شخص سندر لال کتھوریا کی بھی اسپتال میں علاج کے دوران موت ہو گئی ہے۔ مشتبہ مٹھائی کھانے کے بعد ایک ہی خاندان کے تین دیگر افراد اب بھی بیمار ہیں اور اسپتال میں زیر علاج ہیں۔
معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہے۔ اس بات کا تعین کرنے کی کوششیں جا ری ہے کہ مٹھائی میں جان بوجھ کر کوئی زہریلا مادہ ملایا گیا یا یہ پھر کوئی حادثہ ہے۔ نامعلوم شخص کی تلاش کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کی جا رہی ہے۔ فی الحال پولیس نے متوفی کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے مردہ خانہ میں جمع کرا دی ہے۔
پولیس کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد موت کی وجہ سامنے آ سکے گی۔ اس سلسلے میں پہلی موت کے بعد فوڈ اینڈ ڈرگ ڈپارٹمنٹ نے متعلقہ مٹھائی کو سیل کر دیا اور جانچ کے لیے بھوپال بھیج دیا ہے۔ پولیس نے بھی ایک نمونہ سیل کیا ہے۔ وہیں اس معاملے میں مقامی لوگ کچھ بھی بتانے کی حالت میں نہیں ہیں۔