شیئر بازار میں زلزلہ! ٹرمپ کی دھمکی کے بعد جنگ پھر سے شروع ہونے کے اندیشہ نے سینسیکس کو کیا بے حال

اسٹاک مارکیٹ میں تازہ گراوٹ کی سب سے بڑی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان نئی ممکنہ جنگ کی سرگوشی کو مانا جا سکتا ہے۔ دراصل دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی پھر بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔

شیئر بازار
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران شیئر بازار کے لیے بیرون ممالک سے لگاتار خطرے کا سگنل مل رہا تھا اور آخر کار وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا۔ کھلنے کے ساتھ ہی شیئر بازار کریش ہو گیا۔ بامبے اسٹاک ایکسچینج کا 30 شیئروں والا سینسیکس جہاں کھلنے کے  کچھ دیر بعد ہی 1000 پوائنٹس سے زیادہ غوطہ لگاتا نظر آیا، وہیں دوسری طرف نیشنل اسٹاک ایکسچینج کا نفٹی بھی 280 پوائنٹ سے زیادہ کی گراوٹ کے ساتھ کاروبار کرتا ہوا دکھائی دیا۔ اس بڑی گراوٹ کے درمیان پاور گرڈ، ٹاٹا اسٹیل، ماروتی، ایچ ڈی ایف سی بینک، اڈانی پورٹس اور ٹائٹن جیسی بڑی کمپنیوں کے شیئر بکھرے ہوئے دکھائی دیے۔

سینسیکس-نفٹی کی اوپننگ پر نظر ڈالیں تو بی ایس ای ایس سینسیکس اپنے گزشتہ جمعہ کے بند 75 ہزار 237 کے مقابلے میں تیز گراوٹ کے ساتھ 74 ہزار 807 کی سطح پر کھلا تھا اور اگلے 5 منٹ میں ہی یہ بڑی گراوٹ کے ساتھ پھسلتے ہوئے 907 پوائنٹ ٹوٹ گیا اور 74 ہزار 330 کی سطح پر آگیا اور کچھ دیر بعد ہی 1000 پوائنٹ سے زیادہ پھسل کر کاروبار کرنے لگا۔ این ایس ای نفٹی کی رفتار بھی سینسیکس کے جیسی ہی نظر آئی اور یہ 50 شیئروں والا انڈیکس اپنے پچھلے بند 23 ہزار 643 کے مقابلے میں گر کر پہلے 23 ہزار 482 پر کھلا اور پھر اچانک اس میں گراوٹ بھی تیز ہوتی چلی گئی۔ شیئر مارکیٹ میں ٹریڈنگ شروع ہونے کے 5 منٹ بعد ہی یہ انڈیکس بھی 280 پوائنٹ ٹوٹ کر 23 ہزار 361 پر کاروبار کرتا نظر آیا۔


شیئر مارکیٹ میں ہفتہ کے پہلے کاروباری دن آئی بڑی گراوٹ کے درمیان تمام بڑی کمپنیوں کے شیئر بکھرے ہوئے نظر آئے۔ بی ایس ای لارج کیپ پر نظر ڈالیں تو اس میں شامل ٹاٹا اسٹیل شیئر 3.75 فیصد، پاور گرڈ شیئر 3.50 فیصد، ماروتی شیئر 2.40 فیصد، ٹرینٹ شیئر 2.25 فیصد، ایس بی آئی شیئر 2.05 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ کاروبار کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ ایٹرنل، ٹائٹن، اڈانی پورٹس جیسے اسٹاک میں بھی تقریباً 2 فیصد کی گراوٹ آئی۔

اسٹاک مارکیٹ کے گرنے کی وجوہات کے بارے میں بات کریں تو ان میں سب سے بڑی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان نئی ممکنہ جنگ کی سرگوشی کو مانا جا سکتا ہے۔ درحقیقت دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی پھر بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو دھمکی دی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ ’’ایران کے لیے گھڑی کی سوئیاں تیز بھاگ رہی ہیں اور انہیں جلد سے جلد قدم اٹھانے ہوں گے، بصورت دیگر ان کا کچھ بھی باقی نہیں بچے گا، وقت قیمتی ہے۔‘‘