’پنجاب سے آئے ہیں، قوانین منسوخ کرا کے ہی جائیں گے‘ کسان تحریک میں شامل خواتین کا اعلان

نواں شہر کی جسپال کور (51) علی الصبح پانچ بجے ہریانہ کے مرتھل سے پا پیادہ سفر کرتے ہوئے سنگھو بارڈر تک پہنچی ہیں، سخت سردی کے باوجود انہوں نے 20 کلومیٹر کا سفر طے کیا ہے

سنگھو بارڈر پر احتجاج میں شامل پنجاب کی خواتین / تصویر آس محمد
سنگھو بارڈر پر احتجاج میں شامل پنجاب کی خواتین / تصویر آس محمد
user

آس محمد کیف

نواں شہر کی جسپال کور (51) علی الصبح پانچ بجے ہریانہ کے مرتھل سے پا پیادہ سفر کرتے ہوئے سنگھو بارڈر تک پہنچی ہیں، سخت سردی کے باوجود انہوں نے 20 کلومیٹر کا سفر طے کیا ہے۔ جسپال کور کے ساتھ دو درجن خواتین اور ہیں۔ بلند حوصلوں والی جسپال کہتی ہیں ’’میں یہاں صرف روٹی بنانے ہی نہیں آٗی ہوں، بلکہ اس تحریک میں شانہ بشانہ کھڑی رہوں گی۔‘‘ کسانوں کے علاوہ اب مزدور، فنکار اور کھلاڑیوں سے بھی مالی اور اخلاقی مدد حاصل ہونے کے بعد جہد کاروں کے حوصلے بلند نظر آ رہے ہیں۔ جبکہ خواتین بھی تحریک میں بڑھ چڑھ حصہ لے رہی ہیں

خواتین یہاں ہر جگہ نظر آتی ہیں۔ وہ ڈائس پر موجود ہیں، کھانے پینے کا نظام بھی سنبھال رہی ہیں۔ مظاہرہ میں شامل ہونے کے لئے پنجاب کے بھٹنڈا سے پہنچنے والی ہرندر بند اپنی کار سے راستہ میں انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے آئی ہیں۔ وہ پہنچنے کے کچھ دیر بعد ہی سنگھو بارڈر پر مظاہرہ میں شامل ہو جاتی ہیں۔ ہرندر بیباک انداز میں بات کرتی ہین اور صحافیوں کے سامنے پُر اعتماد رہتی ہیں۔ ہرندر نے کہا، ’’آج ہمیں خالصتانی قرار دیا جا رہا ہے جبکہ میرے والد میگھراج بھکتوانا کا 30 پہلے خالصتان حامیوں نے قتل کر دیا تھا۔ ہرندر کسان یونین اگراہاں کی سکریٹری ہیں اور کسان تحریک میں پنجاب کی خواتین کو شامل کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ’’ہم دہاڑی مزدور نظر آتے ہیں! ہم یہاں اپنے بچوں کو چھوڑ کر کھلے آسمان کے نیچے سخت سردی میں اپنے حق کے لئے موجود ہیں۔‘‘

Getty Images
Getty Images
SOPA Images

ٹیکری بارڈر پر ڈائس کے عین بغل میں بیٹھیں جسبیر کلرک کے عہدہ سے سبکدوش ہونے کے بعد کسان یونین سے منسلک ہو گئیں۔ ان کا بیٹا بھی سنگھو بارڈر پر دھرنا دے رہا ہے۔ تحریک کے لئے فنڈ مہیا کرنے سے لے کر ڈائس کا نظام سنبھالنے تک کے کام جسبیر کور ہی انجام دے رہی ہیں۔ یہاں گورمیل کور جیسی عمر رسیدہ خواتین بھی موجود ہیں جو کسی تنظیم سے تو منسلک نہیں ہیں لیکن اپنے گاؤں سے آنے والے جتھے کے ساتھ مظاہرین کا حوصلہ بڑھانے کے لئے یہاں پہنچی ہیں۔

تصویر آس محمد
تصویر آس محمد

دہلی میں کسانوں کا احتجاج اہم طور پر تین مقامات پر چل رہا ہے۔ ان میں خواتین کی تعداد سب سے زیادہ سنگھو بارڈر ہے ۔ سنگھو بارڈر پر خواتین ہی نظام کو سنبھال رہی ہیں۔ سمی سہوتا کہتی ہیں ’’ہم ایک کنبہ کی طرح ہیں تو خوشی اور غم بھی سبھی شریک ہیں۔ اس وقت ہم گھر پر بیٹھے نہیں رہ سکتے۔ ہر مشکل میں ہم اپنے کنبہ کے ساتھ ہیں۔‘‘

تصویر آس محمد
تصویر آس محمد

مظاہرہ میں شامل پربھجوت کور کہتی ہیں، ’’حکومت کو کسانوں کے عزم کے سامنے جھکنا ہی ہوگا، کیونکہ ہم سب مہینوں تک جد و جہد کرنے کے ارادے سے یہاں پہنچے ہیں۔ یہاں سبھی کے پاس دس مہینے کا راشن موجود ہے۔‘‘ کسان تحریک میں شامل ان خواتین کے جذبے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک اخبار کے لئے صحافت کرنے پہنچی ایک خاتون صحافی بھی یہاں خدمت میں مصروف ہو گئی ہیں۔ وہ یہاں دیسی گھی کے میٹھے چاول پکا رہی ہیں۔

تصویر آس محمد
تصویر آس محمد

ان خواتین میں بیشتر اپنے بچے گھروں پر چھوڑ کر آئی ہیں۔ سکھدیپ کور کہتی ہیں، ’’کھیتی کا سوال ہے بہت بڑا ہو گیا ہے۔ یہ حل ہوگا تو بچوں کا مستقبل بنے گا۔‘‘ یہاں خواتین کے کئی گروپ ہیں، ان میں ہرا دوپٹہ، پیلا دوپٹہ والے گروپ کی خواتین پنجابی نغمے گا رہی ہیں۔

سکھدیپ کور کہتی ہیں کہ ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھانے کے لئے یہاں گیت گائے جا رہے ہی۔ وہ کہتی ہیں ’’کسان اپنی زمین کسی دوسرے کے ہاتھ میں کیسے دے دیگا۔ لوگ سڑکوں پر ہیں۔ یہ کھیل نہیں ہے۔ ہم تکلیف میں ہیں۔ کسان سیدھے سادے لوگ ہیں مگر ہمیں اپنے حقوق کی خبر ہے۔ یہ قوانین کسانوں کے حق میں نہیں ہیں۔ کورونا کے دور میں اس قانون کو لانے کی نیت صحیح نہیں ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 10 Dec 2020, 10:56 AM