آندھرا کے سابق اسپیکر کوڈیلہ سیوا پرساد نے لگائی پھانسی، اسپتال میں ہوئی موت

سابق اسپیکر کوڈیلہ نے پھانسی لگا کر خودکشی کرنے کی کوشش کی۔ جب گھر والوں کو اس کے بارے میں پتہ چلا تو فوراً علاج کے لئے اسپتال لے گئے۔ ڈاکٹروں نے انھیں بچانے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

حیدر آباد: آندھراپردیش کے سابق اسپیکر کوڈیلہ سیواپرساد راکی مشتبہ حالت میں موت ہوگئی۔وہ تلگودیشم پارٹی کے سینئر لیڈر تھے۔ان کو آج 11.30بجے دن حیدرآباد کے بسواتارکماں انڈو۔امریکن کینسر اسپتال منتقل کیاگیا تھا۔اسپتال کے سینئر ڈاکٹرس نے بتایا کہ انہوں نے سینئر سیاستداں کو ہوش میں لانے کی کوشش کی۔ان کی ایک گھنٹہ کی کوششیں ناکام رہیں جس کے بعد ڈاکٹرس نے 12بجکر 39منٹ پر ان کو مردہ قرار دیا۔

بتایاجاتا ہے کہ سابق اسپیکر نے اپنے مکان میں پھانسی لگا لی۔ان کو دیکھ کر ان کے قریبی ساتھیوں نے ان کو علاج کے لئے اسپتال منتقل کیا۔جب ان کو ہوش میں لانے کی تمام کوششیں ناکام رہیں تو ڈاکٹرس نے ان کومردہ قرار دیا۔ان کی لاش کو اسپتال سے پوسٹ مارٹم کے لئے عثمانیہ اسپتال منتقل کیا گیا۔بعد ازاں ان کی لاش کو ان کے آبائی ضلع گنٹور لے جایا جائے گا۔تلنگانہ کے وزیراعلی کے چندرشیکھر راؤ نے ان کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور ان کے غمزدہ ارکان خاندان سے تعزیت کا اظہار کیا۔

پولس نے بتایا کہ ان کے مکان کے کمرہ میں جہاں انہوں نے پھانسی لگائی، پنکھے کا ایک راڈموڑاہوا ہے جس سے خودکشی کا شبہ کیا جارہا ہے تاہم پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہی موت کی حتمی وجہ بتائی جاسکتی ہے۔پولس نے کہا کہ ان کے بیٹے نے کہاکہ گزشتہ چنددنوں سے وہ تناؤ کے شکار تھے۔اطلاع ملتے ہی پولس بنجاراہلز میں واقع ان کے مکان پہنچی۔

پولس نے ایک معاملہ اس سلسلہ میں درج کرلیا۔ڈی سی پی سرینواس نے بتایا کہ ان کے ارکان خاندان کا کہنا ہے کہ انہوں نے پھانسی لگائی ہے تاہم موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد سامنے آئے گی۔انہوں نے کہاکہ رات میں گھر میں کسی سے بھی ان کا جھگڑا نہیں ہوا ہے۔ان کی موت کی اطلاع پر ان کے حامیوں کی بڑی تعداد اسپتال پہنچی اور ان کی حمایت میں نعرے بازی کرنے لگی۔ان کو قابو میں کرنے کے لئے پولس کو جدوجہد کرنی پڑی۔ان کی موت کی اطلاع پر اے پی کے ضلع گنٹور کے ان کے آبائی مقام کلاکنٹلہ میں غم کی لہر دوڑ گئی۔

ریاست میں وائی ایس آرکانگریس کے برسراقتدار آنے کے بعد ان پر اسمبلی کے فرنیچر کی چوری کا الزام بھی لگاتھا۔کوڈیلہ،اسمبلی کے لئے چھ مرتبہ رکن بنے۔2014سے 2019تک وہ اسپیکر رہے۔اپوزیشن بی جے پی نے بھی ان کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔اپنے بیان میں تلنگانہ بی جے پی ترجمان کرشنا ساگر راؤ نے کہا کہ ان کی موت افسوسناک ہے۔

Published: 16 Sep 2019, 11:10 PM