اندھرا پردیش: دریائے گوداوری میں کشتی الٹنے سے 11 لوگوں کی موت

عہدیداروں کے مطابق 1964 میں دریائے گوداوری کے اسی علاقہ میں ایسا ہی کشتی کا سانحہ پیش آیا تھا اور 2009 میں بھی ایسا واقعہ پیش آیا تھا۔ جس میں پہلے واقعہ میں 60 اور دوسرے میں 8 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

وجے واڑہ: مشرقی گوداوری کی دریائے گوداوری میں کشتی کے الٹ جانے کے واقعہ میں پانچ لاشوں کونکال لیا گیا ہے مقامی ماہی گیروں نے لاشوں کی تلاشی اور تاحال 5لاشوں کو نکالا ان میں دو خواتین شامل ہیں۔ وزیراعلی وائی ایس جگن موہن ریڈی نے مشرقی اورمغربی گوداوری اضلاع کے کلکٹرس وایس پیز سے بات کرتے ہوئے بچاؤ کارروائیوں کی نگرانی کرنے کے لئے کہا ہے۔

وزیر داخلہ ایم سچترا نے میڈیا کو بتایا کہ انہیں پتہ چلا ہے کہ اس کشتی میں سوار 61 افراد میں سے27 سیاحوں کو بچالیا گیا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق اس کشتی میں 50 سیاح اور 11ارکان عملہ سوار تھے۔ ذرائع نے خدشہ ظاہرکیا کہ اموات کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

اسی دوران آندھراپردیش کے وزیر سیاحت اے سرینواس نے دعوی کیا کہ بندرگا ہ کے حکام کی جانب سے اس کشتی کولائسنس دیا گیا ہے۔ مشرقی گوداوری ضلع کے کلکٹر مرلیدھر راو، ایس پی عدنان نعیم عاصم، اڈیشنل ایس پی سریدھر راو فوری طور پر مقام واقعہ پر پہنچ گئے ہیں تاکہ بچاؤ سرگرمیاں انجام دی جاسکیں۔

چیف منسٹر جگن موہن ریڈی نے دونوں اضلاع کے کلکٹرس سے اس واقعہ کے سلسلہ میں تفصیلات حاصل کیں اور جنگی خطوط پر راحتی سرگرمیاں تیز کرنے کی ہدایت دی۔ دونوں اضلاع کے وزراء سے خواہش ظاہر کی ہے کہ وہ مقام واقعہ پر فوری پہنچیں تاکہ راحتی کام انجام دیئے جاسکیں۔ عہدیداروں کے مطابق 1964 میں دریائے گوداوری کے اسی علاقہ میں ایسا ہی کشتی کا سانحہ پیش آیا تھا۔ 2009 میں بھی ایسا واقعہ پیش آیا تھا۔ پہلے واقعہ میں 60 افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ دوسرے واقعہ میں 8 افراد غرق ہوگئے تھے۔ عہدیدار ہنوز اس بات کی تصدیق نہیں کر پارہے ہیں کہ کتنے لوگ مزید غرق ہیں۔ جگن موہن ریڈی نے اس واقعہ کی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔