کشمیر کے سابق وزیر اعلی مرحوم مفتی سعید کا خاندانی گھر فروخت ہونے والا ہے

جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی مرحوم مفتی محمد سعید کا خاندانی گھر برائے فروخت ہے اور اسے خریدنے کے لئے اب تک بہت کم لوگوں نے ان کے گھر والوں سے رابطہ کیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی مرحوم مفتی محمد سعید کے خاندانی گھر کو فروخت کیے جانے کی بات سامنے آئی ہے۔ ایک میڈیا رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ مفتی سعید کے خاندان کے لوگوں نے گھر بیچنے کا ایک بوڑد گھر پر لگا دیا ہے۔

جنوبی کشمیر کے بج بہیرا میں مفتی سعید کا دو منزلہ خاندانی مکان ہے اور آرٹیکل 370 کے ہٹائے جانے کے بعد اس گھر پر لگی سیکورٹی کو ہٹا لیا گیا ہے، اس کے بعد سے ہی اس مکان کے فروخت کیے جانے کی خبریں گرم ہیں۔

انگریزی اخبار ’دی ہندو‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق پیپلس ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے سابق سربراہ مفتی سعید کے بھائی مفتی محمد امین نے کہا ہے کہ موجودہ جو غیر یقینی کا ماحول ہے اس کی وجہ سے گھر میں رہنا مشکل ہو رہا ہے۔ نام نہ شائع کرنے کی شرط پر سعید کے ایک عزیز نے بتایا کہ سیکورٹی ہٹائے جانے کے بعد خاندان کے لوگوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے۔

بج بہیرا کے بابا محلہ میں واقع مفتی سعید کے اس گھر پر احتجاجی مظاہروں کے علاوہ دہشت گردانہ حملے بھی ہو چکے ہیں۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق خاندان کے ایک فرد نے بتایا ’’1990 کی دہائی میں دہشت گردی شروع ہونے سے بہت پہلے گھر میں کئی سیکورٹی اہلکار لگائے گئے تھے اور اب جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کیے جانے کے اعلان کے بعد وہاں سے سیکورٹی ہٹا دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی کے قریبی رشتہ داروں کی سیکورٹی بھی ہٹا لی گئی ہے۔ مکان بیچنے کے علاوہ اب کوئی متبادل نہیں بچا ہے‘‘۔

خاص بات یہ ہے کہ اب تک بہت کم لوگوں نے مفتی سعید کے گھر والوں سے اس تعلق سے رابطہ کیا ہے۔ واضح رہے مفتی سعید نے اسی گھر سے 1950 میں اپنا سیاسی سفر شروع کیا تھا۔ مفتی سعید وی پی سنگھ کی مرکزی حکومت میں وزیر داخلہ رہے اور ریاست کے وزیر اعلی رہتے ہوئے 7 جنوری 2016 کو ان کا انتقال ہو گیا تھا۔