یوپی: ناخواندہ نوجوان نے یوٹیوب سے سیکھا طمنچہ بنانا اور شروع کر دی منی فیکٹری، 7 گرفتار

نوجوان نے بتایا کہ طمنچہ بنانے کی ٹریننگ اس نے یوٹیوب سے لی ہے، پتہ چلا کہ وہ نوجوان بالکل بھی پڑھا لکھا نہیں ہے اور یوٹیوب میں جا کر اسپیکر پر جو بولتا ہے اس کی وڈیو سامنے آ جاتی ہے۔

تصویر بذریعہ آس محمد کیف
تصویر بذریعہ آس محمد کیف
user

آس محمد کیف

اتر پردیش کے مظفر نگر ضلع کی میراپور تھانہ پولیس نے ایک حیران کرنے والا انکشاف کیا ہے۔ پولیس نے نوجوانوں کی ایک ٹیم کو طمنچہ بنانے کی فیکٹری چلانے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ یہ ٹیم گوگل اور یوٹیوب کی مدد سے طمنچے بنا رہی تھی۔

حیرت انگیز یہ ہے کہ گرفتار کیے گئے لڑکوں کا ٹیم لیڈر بالکل ناخواندہ ہے۔ وہ طمنچے بنانے کی ترکیب سیکھنے کے لیے ’وائس گوگل‘ کا استعمال کرتا ہے۔ ایک اور حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ گرفتار کیے گئے 7 لڑکوں میں 2 نابالغ ہیں۔ یہ انکشاف مظفر نگر ضلع کے میراپور تھانہ کی پولیس نے کیا ہے۔


میراپور پولیس کے مطابق 9 دسمبر کی رات انھیں مخبر ے جانکاری ملی تھی کہ کچھ نئے لڑکے طمنچے بنا رہے ہیں۔ ہم نے اس کے بعد ان کی فیلڈنگ لگا کر انھیں دبوچ لیا۔ انسپکٹر میرا پور، گیانیشور بودھ نے بتایا کہ گرفتاری کے دوران انھیں 10 طمنچے اور انھیں بنانے کے سامان بھی ملے۔ ہم نے جس نوجوان کو یہ کاروبار چلاتے ہوئے پایا اس نے بتایا کہ ٹریننگ یوٹیوب سے لی ہے۔ جانکاری ملنے پر پتہ چلا کہ وہ نوجوان پڑھا لکھا بالکل نہیں ہے۔ نوجوان نے بتایا کہ وہ یوٹیوب میں جا کر اسپیکر پر بول دیتا ہے اور اس کے بعد اس میں تمام طرح کی ویڈیوز آ جاتی ہیں جو بتاتی ہیں کہ یہ کیسے کیا جا سکتا ہے۔

یوپی: ناخواندہ نوجوان نے یوٹیوب سے سیکھا طمنچہ بنانا اور شروع کر دی منی فیکٹری، 7 گرفتار

یوٹیوب سے یہ سیکھنے کے بعد اس نوجوان آشو نے اپنی پوری ایک ٹیم بنا لی۔ سبھی گرفتار ملزمین سے پولیس نے 10 طمنچے، زندہ کارتوس، 12 نال، ویلڈنگ مشین اور طمنچہ بنانے میں استعمال ہونے والے سامان برآمد کیے ہیں۔ گرفتار نوجوانوں کے نام ہرش چودھری، حلال، کیف، سمیر، شان محمد اور شیوم ہے۔ گرفتار نوجوانوں میں ایک سمیر کے والد صغیر سیفی نے کہا کہ انھیں کچھ نہیں معلوم پولیس کیا کہہ رہی ہے۔ انھوں نے اپنے بیٹے کو کبھی طمنچے بناتے نہیں دیکھا۔ جن لڑکوں کو پولیس نے گرفتار کیا ان میں سے ایک سمیر کا دوست ہے۔


دوسری طرف ڈی ایس پی شکیل احمد نے بتایا کہ یہ بہت حیران کرنے والا ہے۔ گھر والوں کو اپنے بچوں پر سخت نظر رکھنی چاہیے۔ یہ تکنیک کے غلط استعمال اور غلط روش کی کہانی ہے۔ پولیس نے پوری طرح ثبوتوں کے ساتھ میراپور کے محلہ کملیان میں چھاپہ مارا تھا، جہاں غیر قانونی اسلحہ بنانے کی فیکٹری چل رہی تھی۔ ہم نے وہاں سے ایک طمنچہ 12 بور، 10 طمنچے 315 بور، ایک طمنچہ نیم تیار 315 بور، پانچ زندہ کارتوس 315 بور، ایک زندہ کارتوس 12 بور، 12 لوہے کی نال، ایک ویلڈنگ مشین، 15 ویلڈنگ راڈ سمیت دیگر غیر قانونی اسلحہ بنانے کے سامان برآمد کیے۔

اس انکشاف کے بعد میراپور میں عام لوگ حیران ہیں اور الگ الگ طرح کے رد عمل دے رہے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ گرفتار سات نوجوانوں کے گھر الگ الگ محلوں میں ہیں۔ یہ بھی جانکاری ملی ہے کہ ملزم نوجوان 6 مہینے سے طمنچے فروخت بھی کر رہے تھے۔ مقامی شہری اور سینئر استاد کیرتی بھوشن شرما نے اسے ’حیرت انگیز خبر‘ بتایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ ہمارے مستقبل کی صلاحیتوں کا غلط راستے پر چلے جانا ہے۔ کتنا اچھا ہوتا کہ یہ نوجوان اس بہترین دماغ کو اچھے کام کے لیے استعمال کرتے۔ اس طرح کے حالات فکر انگیز ہیں اور اس کے لیے سماج کو بیدار کیے جانے کی ضرورت ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔