’میٹا اسمارٹ گلاس پہن کر میرا اسٹنگ کرنے کی کوشش ہوئی‘، وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کا سنسنی خیز دعویٰ
جب ڈی کے شیوکمار سے پوچھا گیا کہ انہیں پھنسانے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی، تو ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ کارروائی کی گئی ہے، بس ہم اس کا انکشاف نہیں کر رہے ہیں۔

کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک صنعت کار نے ان کے اور کیرلم کے وزیر اعلیٰ وی ڈی ستیشن کے خلاف ’اسٹنگ آپریشن‘ کرنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ صنعت کار میٹا کے اسمارٹ گلاسز پہنے ہوئے تھا۔ کنڑ نیوز چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیے گئے ان انکشافات نے کرناٹک میں اسٹنگ آپریشن کو لے کر جاری سیاسی تنازعے میں ایک نیا موڑ پیدا کر دیا ہے۔
ڈی کے شیوکمار نے دعویٰ کیا ہے کہ ان سے ملاقات کے لیے آنے والے ایک صنعت کار نے ’میٹا اسمارٹ گلاسز‘ پہن رکھے تھے، جس سے انہیں شبہ ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے اس شخص کی سرگرمیوں اور دیگر سیاسی لیڈران کے ساتھ اس کی ملاقاتوں کے بارے میں معلومات جمع کرنا شروع کر دیں۔ کنڑ نیوز چینل ’ایشیا نیٹ سورنا نیوز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے الزام لگایا کہ یہ واقعہ انہیں اور کانگریس کے دیگر لیڈران کو نشانہ بنانے کے لیے کیے جا رہے ایک بڑے اسٹنگ آپریشن کی تیاری کا حصہ تھا۔
ڈی کے شیوکمار نے یہ الزامات ایسے وقت میں لگائے ہیں، جب کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ سدارمیا سے متعلق مبینہ اسٹنگ آپریشن کی ویڈیو کو لے کر تنازعہ گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ کانگریس اور اپوزیشن پارٹیاں ایک دوسرے پر الزام لگا رہی ہیں کہ ان ویڈیوز کے پیچھے کون ہے اور ان کا سیاسی مقصد کیا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ انہیں پھنسانے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی، تو ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ حکام نے احتیاطی اقدامات کیے ہیں، لیکن وہ اس کی تفصیلات نہیں بتا رہے ہیں۔
’ایشیا نیٹ سورنا نیوز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کرناٹک کے وزیر اعلیٰ نے کارروائی سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ ’’کس نے کہا کہ کارروائی نہیں کی گئی؟ بس آپ کو اس کے بارے میں معلوم نہیں ہے، اتنی سی بات ہے۔ ہم اس کا انکشاف نہیں کر رہے ہیں، بس یہی بات ہے۔ ہم نے تمام احتیاطی اقدامات کیے ہیں۔‘‘ اسٹنگ آپریشن سے متعلق مبینہ کوشش کے بارے میں بتاتے ہوئے ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ ایک صنعت کار نے حکام کے ذریعے ان سے ملاقات کا وقت لیا اور ابتدا میں ان سے کاروبار کے بارے میں بات کی۔ تاہم، بعد میں اس شخص نے گفتگو کا رخ سیاست کی طرف موڑ دیا اور بوتھ کی سطح کی حکمت عملیوں اور سیاسی صورت حال پر بات کرنے لگا۔
ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ گفتگو کا رخ اور اس شخص کے چشمے کو دیکھ کر انہیں شک ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ ’’میں نے اپنے افسران سے اس صنعت کار کے پس منظر کی جانچ کرنے کو کہا۔‘‘ وزیر اعلیٰ کے مطابق انہیں جو معلومات حاصل ہوئیں، ان سے پتا چلا کہ اس شخص نے کیرالا کے وزیر اعلیٰ وی ڈی ستیشن سے ملاقات کے دوران بھی یہی ’میٹا چشمہ‘ پہن رکھا تھا۔ تاہم، آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ چندرابابو نائیڈو، مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس اور ایک مرکزی وزیر سے ملاقات کے وقت اس نے ایسا کوئی چشمہ نہیں پہنا تھا۔
ڈی کے شیوکمار نے دعویٰ کیا کہ ’’اس نے یہ میٹا چشمہ صرف میرے اور وی ڈی ستیشن کے پاس آتے وقت ہی پہنا تھا۔‘‘ انہوں نے اس شخص کی شناخت ظاہر نہیں کی اور نہ ہی ریکارڈنگ کی اس مبینہ کوشش کا کوئی ٹھوس ثبوت پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ انہیں ان لوگوں کے بارے میں معلومات ملی ہیں جو اس میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے اپنی کابینہ کے ساتھیوں کو بھی خبردار کیا ہے کہ وہ ذاتی معاونین، فون کالز یا دیگر طریقوں سے انہیں پھنسانے کی کوششوں کے حوالے سے محتاط رہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’حکومت ایک خاندان کی طرح ہے اور اس کے سربراہ کی حیثیت سے مجھے اپنے کابینہ وزرا کو خبردار کرنا ہوگا، تاکہ وہ کسی کے جھانسے میں نہ آئیں۔‘‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ نام اور دستاویزات ظاہر کرنے کے لیے مناسب وقت کا انتظار کر رہے ہیں، تو کرناٹک کے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے ریکارڈ محفوظ کر رکھا ہے، لیکن فی الحال اس کا انکشاف نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں نے ان سب کو بلایا ہے اور ریکارڈ محفوظ کر لیا ہے، لیکن ابھی نہیں۔ جب مناسب وقت آئے گا تو میں اپنی بات کہوں گا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’ابھی بولنے کا وقت نہیں ہے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
