قومی

امرتسر ٹرین حادثہ: سدھو اور ان کی اہلیہ نوجوت کور کو کلین چٹ

رپورٹ میں مقامی انتظامیہ، میونسپل کارپوریشن اور پولس کی غلطی بتائی گئی ہے، کیونکہ انہوں نے دسہرہ میں بنے پنڈال پر مکمل انتظام ہیں یا نہیں اس بات کی جانچ نہیں کی۔

تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

پنجاب حکومت کے وزیر نوجوت سنگھ سدھو اور ان کی بیوی کو امرتسر ریل حادثے میں کلین چٹ مل گئی ہے، مجسٹریٹ انكويری نے ان دونوں کو کلین چٹ دی گئی ہے، اس سال دسهرے کے دن (19 اکتوبر) کو امرتسر ریل حادثے میں 61 لوگوں کی موت ہو گئی تھی، یہ لوگ ’راون دہن‘ دیکھنے کے لئے جمع ہوئے تھے۔ ریلوے کراسنگ کے قریب راون دہن کا انعقاد کیا گیا تھا، جس میں نوجوت کور نے خصوصی طور پر شامل ہوئیں تھیں۔

ذرائع کے مطابق ریل حادثے کی 300 صفحات پر مشتمل جانچ رپورٹ 21 نومبر کو پنجاب حکومت کو سونپی گئی تھی اس رپورٹ میں نوجوت سنگھ سدھو اور ان کی اہلیہ نوجوت کور سدھو کو کلین چٹ دی گئی ہے۔

جالندھر کے ڈیوجنل کمشنر بی پرشارتھ نے یہ اس ریل حادثہ کی تفتیش مکمل کرکے اپنی رپورٹ پنجاب حکومت کو سونپی تھی۔ اب اس رپورٹ پر آگے کیا ایکشن لیا جائے گا، یہ خود وزیر اعلی کیپٹن امریندر سنگھ طے کریں گے۔

نوجوت سنگھ سدھو کے بارے میں اس رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ وہ واقعہ کے دن امرتسر میں موجود ہی نہیں تھے، وہیں، نوجوت کور سدھو کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ وہ اس پروگرام کی مہمان خصوصی تھیں لیکن کوئی بھی مہمان خصوصی کسی بھی وینيو(جائے تقریب) پر جا کر یہ چیک نہیں کرتا کہ وہاں کس طرح کے انتظام ہیں، یہ منتظمین کا کام ہے اور اسے ہی یقینی بنانا ہے۔

لیکن اس رپورٹ میں نوجوت سنگھ سدھو کے قریبی اور مقامی کانگریس کونسلر کے بیٹے سوربھ مٹھو مدان کی بھی غلطی بتائی گئی ہے، رہورٹ میں ان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے اس پروگرام کے لئے نہ تو صحیح طریقے سے تمام محکموں سے اجازت لی اور نہ ہی لوگوں کی حفاظت کے لئے ضروری قدم اٹھائے۔ رپورٹ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ منتظمین نے جان بوجھ کر اس دسہرے کے پروگرام کو کافی تاخیر سے شروع کیا اور منتظمین نے سدھو جوڑے کے نام کا فائدہ اٹھایا۔

رپورٹ میں مقامی انتظامیہ کی بھی غلطی بتائی گئی ہے کہ مقامی انتظامیہ نے اجازت دینے سے پہلے دسہرہ میں بنے پنڈال پر مکمل انتظام ہیں یا نہیں اس بات کی جانچ نہیں کی۔ اس کے ساتھ مقامی میونسپل اور لوکل پولس نے بھی اس جگہ کی جہاں پروگرام ہو رہا تھا کی تیاریوں کی جانچ پڑتال نہیں کی۔ خاص کر جس وقت پروگرام چل رہا تھا اس وقت بھی کسی پولیس یا میونسپل ملازمین نے ریلوے ٹریک پر کھڑے لوگوں کو لے ہٹانے کی کوشش نہیں کی تھی۔

اس رپورٹ میں ریلوے ٹریک کے گیٹ مین کی بھی غلطی بتائی گئی ہے کہ اس نے بھیڑ ہونے کے باوجود ٹرین کو آہستہ یا روکنے کے لئے سگنل نہیں دیا، اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ مستقبل میں ایسا واقعہ دوبارہ رونما نہ ہو اس کو لے کر کئی طرح کی گائڈلائن بنانے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے۔

21 نومبر کو یہ رپورٹ پنجاب کے ہوم سکریٹری این ایس كلسی کے پاس جمع کی گئی تھی اور گزشتہ روز اس رپورٹ پر ایکشن لینے کے لئے پنجاب کے وزیر اعلی کیپٹن امریندر سنگھ کے آفس میں بھیج دی گئی ہے۔