قومی

امرتسر ریل حادثہ: مہلوکین کی تعداد 60 پہنچی، واقعہ کی جانچ شروع

ڈاکٹروں کے مطابق کم از کم 40 افراد کی حالت انتہائی سنگین ہے. ان میں سے کئی معذورہو گئے ہیں۔ انتظامیہ نے ابھی تک مرنے والوں کی تعداد کی کوئی تصدیق نہیں کی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

امرتسر: پنجاب میں وجئے دشمي کا تہواراس وقت ماتم میں تبدیل ہوگیا جب یہاں ہوئے ایک دلدوزحادثے میں ٹرین کی زد میں آنے سے تقریبا 60 افراد کی موت ہو گئی اور تقریبا 70 دیگر زخمی ہو گئے۔

حادثہ جوڑاپھاٹک کے قریب ہوا جب ریلوے لائن کے قریب وجئے دشمی کے موقع پر راون کا پتلا جلایا جا رہا تھا۔ اس دوران سینکڑوں کی تعداد میں خواتین، بچے اور لوگ یہ منظر کو دیکھ رہے تھے. وہ سب کے سب اس بات سے بالکل بے خبر تھے کہ کچھ لمحے میں ہی ان کی خوشیاں ماتم میں تبدیل ہوجائے گی۔ تب ہی وہاں جالندھر سے امرتسر جا رہی ڈي ایم يو ٹرین تیز رفتار سے گزری اور اس نے ٹریک پر کھڑے ہو کر دسہرہ تہوار کا نظارہ کرنے والوں کو اپنی زدمیں لے لیا۔ ان لوگوں کو پتلوں کے جلائے جانے کے دوران پٹاخوں کی آواز میں ٹرین کے آنے کا احساس تک نہیں ہوا۔ اس دوران بہت سے لوگ راون کا پتلا دہن کے مناظر کو اپنےموبائیل کیمروں میں قید کرنے میں مشغول تھے اور اچانک ٹرین انہیں روندتی ہوئی نکل گئی۔

پل بھر میں ہی راون جلانے کا نظارہ ماتم میں تبدیل ہوگیا۔ جائے حادثہ کا منظر یہ تھا کہ محض پانچ سیکنڈ سے بھی کم وقت میں وہاں بہت سے لوگ ٹرین کے نیچے کٹ گئے اور کئی زخمی ہو گئے۔ پٹری اور اس کے ارد گرد لاشوں کا انبار لگ گیا۔ زمین پر ہر طرف خون ہی خون نظر آرہاتھا۔ کسی کا سر تو کسی کا جسم، بازو اور ٹانگیں ادھر ادھر بکھرے ہوئے تھے۔ اس حادثے کا زیادہ تر خواتین اور بچے شکار بنے۔

ڈاکٹروں کے مطابق کم از کم 40 افراد کی حالت انتہائی سنگین ہے. ان میں سے کئی معذورہو گئے ہیں۔ انتظامیہ نے ابھی تک مرنے والوں کی تعداد کی کوئی تصدیق نہیں کی ہے۔ جائے حادثہ پر پڑے چیتھڑوں سے مرنے والوں کی صحیح تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہو رہا ہے۔ جائے وقوعہ پر موجود زخمیوں اور رشتہ داروں کے دکھ درد سن کر اور وہاں خوفناک منظر دیکھنے والے ہر کسی کا دل دہل گیا۔
مرنے والوں میں زیادہ تر اترپردیش اور بہار کے بتائے جاتے ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ وجئے دشمی کے موقع پر وہاں لوگوں کو ریلوے پٹری سے ہٹانے کے لیے مقامی انتظامیہ اور ریلوے کی جانب سے کوئی انتظام نہیں کیا گیا تھا۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اس تقریب کے لیے کوئی اجازت نہیں لی گئی تھی جس کی فی الحال جانچ چل رہی ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پتلا دہن کاپروگرام شام چھ بجے مقرر تھا لیکن تقریب کی مہمان خصوصی اور ریاست کے مقامی بلدیاتی وزیر نوجوت سنگھ سدھو کی اہلیہ نوجوت کور سدھو دیر سے وہاں پہنچی اور اس کی وجہ سے پتلا دہن پروگرام بھی تاخیر کا شکار ہوا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اگر مسز کوروقت پر تقریب میں پہنچ جاتیں تو پتلا دہن پروگرام وقت سے اپنے اختتام کو پہنچ جاتا اور یہ حادثہ ہونے سے بچ جاتا۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگ بدحواس اور روتے بلكھتے ہوئے جائے وقوعہ پر پڑے چیتھڑوں کے درمیان اپنے پیاروں کو ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کچھ کو ان کے اہل خانہ کو کچھ پتہ نہیں چل پا رہا ہے۔

ان کا یہ بھی دعوی ہے کہ جب یہ حادثہ ہوا تو مسز کور وہیں موجود تھیں،لیکن لوگوں کی ناراضگی کے ڈر سے وہ اپنی گاڑی میں بیٹھ کر آنا فانا میں وہاں سے لوٹ گئیں۔ ادھر مسز کور نے میڈیا کو دیئے بیان میں کہا کہ وہ موقع سے بھاگی نہیں. حادثہ ان کے جانے کے 15 منٹ کے بعد ہوا اور انہیں اس کی اطلاع فون پر ملی اور فوراً ہی مرنے والوں کو دیکھنےاسپتال پہنچی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حادثے پر سیاست کرنا انتہائی شرمناک ہے اور یہ کہ یہ تقریب یہاں پہلی بار نہیں بلکہ ہر سال منایا جاتا ہے۔

حادثہ کی اطلاع ملتے ہی انتظامیہ اور پولیس کے سینئر افسران موقع پر پہنچے لیکن انہیں وہاں لوگوں کے غصے کا شکار ہونا پڑا۔بکھرے انسانی اعضاء سے انتظامیہ کے افسران اس حادثے میں مارے گئے لوگوں کی صحیح تعداد بھی بتانے سے ہچکچاتے نظر آئے۔ ریاستی کابینہ وزیر اوپي سونی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے ریاستی صدر بھی موقع پر پہنچے لیکن انہیں لوگوں کی هوٹنگ کا شکار ہونا پڑا۔ دونوں لیڈر لوگوں کے غم و غصہ کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر وہاں سے کھسک گئے۔ امرتسر کے پولیس کمشنر اےایس شریواستو نے بتایا کہ اس واقعہ میں 40-50 افراد کی موت ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد کا تعین کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زخمیوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے. وہیں عینی شاہدین کا کہنا ہے اس واقعہ میں کم از کم 100 سے زیادہ لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ ان کا الزام ہے کہ ٹرین کے ڈرائیورنے نہ تو ہارن بجایا اور نہ ہی دروازے کے گیٹ مین نے ٹرین ڈرائیور کو رفتار سست کرنے یا لوگوں کو ٹرین کے آنے کے بارے میں خبردار کیا. ان کا دعوی ہے کہ دروازے کا گیٹ بھی بند نہیں کیا گیا تھا۔

اس دوران ریاستی حکومت نے اس دلدوز حارثہ کو لے کر ایک دن کے سرکاری سوگ کا اعلان کیا ہے جس کے تحت تمام سرکاری دفاتر اور تعلیمی ادارے 20 اکتوبر کو بند رہیں گے. وزیر اعلی کیپٹن امریندر سنگھ نے اس حادثہ پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مرنے والوں کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا ہے۔ انہوں نے حادثہ کی تحقیقات کے بھی احکامات دیئے ہیں. حادثہ کی اطلاع ملتے ہی انہوں نے ریاست کے سینئر حکام اور پولیس ڈائریکٹر جنرل کو قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ فورس کے ساتھ فوری طور پر جائے حادثہ پر بھیجا. حکومت نے راحت اور بچاؤ کاموں کی نگرانی کیلئے ریاستی وزیر صحت برہم مہندرا کی سربراہی میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ گروپ بھی تشکیل دی ہے. ریونیو کے وزیر سكھبندر سركاريا اور تکنیکی تعلیم کے وزیر چرنجيت سنگھ چني اس گروپ کے رکن ہیں۔

Published: 20 Oct 2018, 10:09 AM