امت شاہ کے الزامات سراسر جھوٹ، تمل ناڈو میں کسی کے مذہبی حقوق نہیں چھینے گئے: ایم کے اسٹالن

تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے امیت شاہ کے اس الزام کو مسترد کر دیا کہ ریاست میں ہندوؤں کے حقوق سلب ہو رہے ہیں، اور کہا کہ ان کی حکومت تمام مذاہب کے حقوق کی محافظ ہے

<div class="paragraphs"><p>ووٹر ادھیکار یاترا کے دوران خطاب کرتے وزیر اعلیٰ تمل ناڈو ایم کے اسٹالن / تصویر ویڈیو / @INCIndia</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے اس بیان کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے الزام لگایا تھا کہ تمل ناڈو میں ہندوؤں کے حقوق سلب کیے جا رہے ہیں۔ اسٹالن نے واضح الفاظ میں کہا کہ یہ الزام نہ صرف حقائق کے منافی ہے بلکہ ایک آئینی عہدے پر فائز شخص کے شایانِ شان بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمل ناڈو ایک ایسا صوبہ ہے جہاں تمام مذاہب اور عقائد کے ماننے والوں کو مکمل آزادی حاصل ہے اور ریاستی حکومت سب کے مذہبی حقوق کے تحفظ کو اپنی بنیادی ذمہ داری سمجھتی ہے۔

ایک سرکاری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بدھ کے روز وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت نے ہمیشہ مذہبی ہم آہنگی اور سماجی یکجہتی کو فروغ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمل ناڈو کی سرزمین پر نفرت، تقسیم اور فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلانے کی ہر کوشش ناکام رہی ہے اور آئندہ بھی ایسی سوچ کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اسٹالن نے زور دے کر کہا کہ ریاست میں کسی ایک مذہب یا طبقے کے ساتھ امتیازی سلوک کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔


وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ کی جانب سے اس نوعیت کے بیانات دراصل ایسے عناصر کی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں جو معاشرے میں دنگا فساد اور تقسیم پیدا کرنا چاہتے ہیں، مگر تمل ناڈو کے عوام نے ہمیشہ ایسی کوششوں کو مسترد کیا ہے۔ انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ جب تک وہ اقتدار میں ہیں، ریاست میں مذہبی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے والی کوئی سازش کامیاب نہیں ہو سکتی۔

سردار جماعت دراوڑ منیترا کزگم نے بھی وزیر اعلیٰ کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی سیکولر اقدار اور آئینی اصولوں پر مضبوطی سے قائم ہے۔ پارٹی کا کہنا تھا کہ تمل ناڈو کی سیاست نفرت نہیں بلکہ سماجی انصاف، مساوات اور باہمی احترام پر مبنی رہی ہے۔

واضح رہے کہ امت شاہ نے اتوار کے روز پدوکوٹئی میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے دراوڑ منیترا کزگم پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ ریاست میں ہندو مذہب اور ہندوؤں کے جذبات کی توہین کر رہی ہے۔ اسی بیان کے ردعمل میں وزیر اعلیٰ اسٹالن کا یہ سخت جواب سامنے آیا ہے، جس نے ریاست کی سیاسی فضا میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔