امت شاہ نے ’جن وشواش یاترا‘ میں سماجوادی پارٹی کو بنایا تنقید کا نشانہ، تو سماجوادی کارکنان ہوئے برہم

امت شاہ کی ریلی کے مقام پر حیرت انگیز طریقے سے اغوا کا ایک معاملہ سامنے آیا، امت شاہ کی آمد سے قبل ہی جرائم پیشہ افراد نے ایک شخص کو دن کے اجالے میں اغوا کر لیا۔

امت شاہ سے ناراض سماجوادی پارٹی کارکنان سے مکتوب لیتے ہوئے پولیس افسر
امت شاہ سے ناراض سماجوادی پارٹی کارکنان سے مکتوب لیتے ہوئے پولیس افسر
user

محمد فہیم

مرادآباد: ’جن وشواس یاترا‘ میں آج مقررہ وقت سے ایک گھنٹہ تاخیر سے پہونچے وزیر داخلہ امت شاہ نے اپنے خطاب کے دوران سماج وادی پارٹی اور بہو جن سماج پارٹی کو خوب تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ ’بوا اور ببوا‘ کے دورِ اقتدار میں پیتل نگری اپنی پہچان کھو چکی تھی، بی جے پی حکومت نے اسے پھر سے پہچان دلانے کا کام کیا۔ ان دونوں حکمراں نے یوپی کی عوام کو فسادات اور جرائم کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔

امت شاہ نے عوام سے خطاب کے دوران کہا کہ سماجوادی پارٹی والے بجلی رانی کو بھی اٹھا لے گئے تھے، یوگی حکومت بجلی واپس لائی اور صوبے کی عوام اس سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں سماج وادی پارٹی سربراہ اکھلیش یادو کے دورِ اقتدار میں یو پی میں جو فرقہ وارنہ فسادات ہوئے ان میں بڑی تباہی ہوئی، عوام اس کا حساب چاہتی ہے۔ امت شاہ اس دوران بھی بی جے پی کے ہندوتوا ایجنڈہ پر بھی قائم نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ سماج وادی پارٹی نے ہی رام بھگتوں پر گولی چلوائی تھی۔


سماج وادی پارٹی سربراہ کے خلاف وزیر داخلہ امت شاہ کی اس طرح کی بیان بازی سے ناراض سماج وادی پارٹی شہر کمیٹی کے عہدیداران و کارکنان نے ایک مکتوب کے ساتھ نعرے بازی کرتے ہوئے ’جن وشواس یاترا‘ میں جانے کی کوشش کی، لیکن انھیں پولیس نے راستے میں ہی روک لیا۔ سماج وادی پارٹی کے ان کارکنان کا کہنا تھا کہ بی جے پی لیڈر امت شاہ سماج وادی پارٹی سربراہ کے خلاف جھوٹی و من گھڑت بیان بازی کر کے عوام کو گمراہ کر نے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پولیس انتظامیہ نے سرکٹ ہاؤس کے نزدیک ہی سماج وادی کارکنان کو روکتے ہوئے ان سے تین رکنی مکتوب حاصل کر لیا۔ سماج وادی پارٹی کے ان مظاہرین کا کہنا تھا کہ لکھیم پور کھیری میں جمہوری حقوق کو کھلے عام پامال کیا گیا۔ وہاں اپنے حق کے لیے لڑ رہے کسانوں کو بی جے پی کے ایک وزیر کے بیٹے نے اپنی گاڑی سے روند دیا اور وہ وزیر ابھی تک اپنے منصب پر برقرار ہے۔ اس سے صاف کہا جا سکتا ہے کہ اس سب میں بی جے پی حکومت کی بھی کسانوں کو دبانے کی منشاء تھی۔ ان مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ لکھیم پور میں ہوئے دردناک حادثہ کے ذمہ دار نائب وزیر داخلہ کو فوراً بر خاست کیا جائے۔


سماجوادی پارٹی کے ناراض مظاہرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ اجودھیا میں رام مندر اور بابری مسجد تنازعہ کو ملک کی اعلیٰ عدالت نے اپنے فیصلے کے ساتھ حل کر دیا جسے ہر ہندوستانی نے قبول کیا، مگر یو پی اسمبلی انتخابات آتے ہی بی جے پی لیڈران نے ایک بار پھر رام مندر کا سہارا لینا شروع کر دیا جو کہ عوام میں فر قہ واریت پھیلانے کی منشا ہے۔

امت شاہ کی ریلی کے مقام پر حیرت انگیز طریقے سے اغوا کا ایک معاملہ بھی سامنے آیا۔ پولیس دہلی روڈ واقع وزیر داخلہ کی ریلی میں حفاظتی بند و بست میں مصروف تھی، اور دوسری طرف جرائم پیشہ افراد نے ایک شخص کو دن کے اجالے میں اغوا کر لیا۔ جس روڈ پر امت شاہ ریلی کو خطاب کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ یوپی کو بی جے پی حکومت نے جرائم سے پاک کر دیا ہے، اسی روڈ کے سامنے سے امت شاہ کی آمد سے کچھ ہی وقت قبل چار لوگ اسکارپیو میں سوار ہو کر ایک شخص کو اغوا کر کے لے گئے اور پولیس کچھ نہیں کر سکی۔


سول لائن کی پاش کالونی رام گنگا وہار میں رہنے والے سندیپ تھریجا منڈی سمیتی میں آڑت چلاتے ہیں۔ صبح وہ جب اسکوٹی سے منڈی جا رہے تھے اسی وقت تھانہ سول لائن بی ایم ایس اسکول کے پاس ڈاکٹر انوراگ ملہوترا کے اسٹال کے نزدیک سفید رنگ کی ایک اسکارپیو نے سندیپ کی اسکوٹی کو ٹکر مار دی۔ اس کے بعد اسکوٹی و سندیپ سڑک پر گر گئے۔ سندیپ کو اٹھانے کے بہانے اسکورپیو سے تین لوگ باہر نکلے اور سندیپ کو زبردستی کار میں ڈال لیا۔ وہاں موجود چشم دید نے پولیس کو اطلاع دی جس کے بعد پولیس محکمہ میں افرا تفری مچ گئی۔ امت شاہ کی ریلی میں حفاظتی بندو بست کر رہے اے ایس پی ساگر جین اور انسپکٹر رویندر پر تاپ موقع پر پہونچے اور معاملے کی چھان بین شروع کی۔

پولیس افسران نے تھریجہ کے اہلِ خانہ سے کسی پر شک و دشمنی سے بابت معلومات کی تو انہوں نے اس سے انکار کیا۔ یہ معاملہ روپیوں کے لین دین کا بھی نہیں تھا۔ تھانہ سول لائن پولیس نے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج نکلوا کر اغوا کاروں کی پہچان کرنے کی کوشش کی مگر فو ٹیج سے کوئی خاص معلومات نہیں مل سکی۔ چشم دید کے مطابق اغواکار سندیپ کو دہلی روڈ کی جانب ہی لے گئے۔ فی الحال پولیس اس پورے معاملے کی جانکاری حاصل کرنے میں لگی ہوئی ہے کہ آخر دن کے اجالے میں کون لوگ سندیپ کو اغوا کر سکتے ہیں اور ان کا مقصد کیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔