سہراب الدین فرضی تصادم میں امت شاہ اور ونجارا کا کردار اہم تھا: تامگڑے

سندیپ تامگڑے کے مطابق امت شاہ و دیگر کا بیان انھوں نے خود لیا تھا اور اس پر دستخط بھی کیے تھے۔ لیکن جب فریق دفاع کے وکیل نے بیان کی کاپی دیکھنی چاہی تو پتہ چلا کہ وہ عدالت کے ریکارڈ میں ہے ہی نہیں۔

امت شاہ اور سہراب الدین کی فائل تصویر 
امت شاہ اور سہراب الدین کی فائل تصویر
user

قومی آوازبیورو

سہراب الدین فرضی تصادم معاملہ کی جانچ سے منسلک کئی افسران اب بھی اس بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ بی جے پی صدر امت شاہ اور ڈی جی ونجارا وغیرہ بے قصور ہیں۔ کچھ ایسا ہی معاملہ اس کیس کی جانچ کرنے والے آئی پی ایس افسر سندیپ تامگڑے نے عدالت میں بتایا کہ سہراب الدین اور تلسی فرضی تصادم سیاسی لیڈروں اور جرائم پیشوں کی سانٹھ گانٹھ کا نتیجہ تھا۔ سندیپ تامگڑے نے بدھ کے روز عدالت میں اپنی جانچ میں پائی گئی باتوں کو دہرایا اور صبح 11 بجے سے شام 7.30 بجے تک چلی سماعت میں انھوں نے یہ بھی بتایا کہ بی جے پی لیڈر امت شاہ، آئی پی ایس ڈی جی ونجارا، راج کمار پانڈیان، دنیش ایم این کا کردار پورے قتل عام کی سازش تیار کرنے والوں میں انتہائی اہم رہا ہے۔

عدالت میں سندیپ تامگڑے نے فریق دفاع کے وکیل کے پوچھنے پر عدالت میں یہ بات بھی بتائی کہ راجستھان کے اس وقت کے وزیر داخلہ گلاب چند کٹاریا، ماربل تاجر ومل پاٹنی اور حیدر آباد کے آئی پی ایس سبرامنیم اور ایس آئی شرینواس راؤ سے پوچھ تاچھ کر ان کے خلاف بھی چارج شیٹ پیش کی تھی۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے یہ بھی بتایا کہ اس وقت کے ملزم امت شاہ، گلاب چند کٹاریا اور ومل پاٹنی کا بیان انھوں نے خود لیا تھا اور اس پر دستخط بھی کیے تھے۔ لیکن جب فریق دفاع کے وکیل نے بیان کی کاپی دیکھنی چاہی تو پتہ چلا کہ وہ عدالت کے ریکارڈ میں ہے ہی نہیں۔ جج ایس جے شرما کے پوچھنے پر سی بی آئی نے بتایا کہ بیان سی بی آئی دفتر میں رکھے ہوئے ہیں۔ اسی طرح حیدر آباد کے ملزم ایس آئی شرینواس راؤ سے متعلق 19 میں سے 18 دستاویز عدالت کے ریکارڈ میں نہیں ہونے کا بھی انکشاف ہوا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ عدالت میں سماعت کے دوران کئی ایسے مواقع آئے جب فریق دفاع نے الزامات سے آزاد ہو چکے ملزمین سے جڑے سوال کٹہرے میں موجود اہم جانچ افسر تامگڑے سے کرنے چاہے لیکن جج نے انھیں اجازت نہیں دی۔ قابل ذکر ہے کہ ابھی کچھ دن پہلے ہی سابق سی بی آئی ایس پی امیتابھ ٹھاکر نے بھی اپنی گواہی میں امت شاہ اور دیگر بڑے پولس افسران کو اس کیس میں سیاسی اور اقتصادی فائدہ ہونے کی بات کہی تھی۔

Published: 22 Nov 2018, 9:09 AM