زہریلی ہوا کے درمیان پانی کا بھی بحران! دہلی، یوپی، پنجاب، ہریانہ، راجستھان سے متعلق حیران کن رپورٹ

سی جی ڈبلیو بی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دہلی میں 86 مقامات پر زمینی پانی کی جانچ کی گئی اور ان میں سے بہت سے نمونے پینے کے لئے انڈین اسٹینڈرڈ بیورو کے ذریعہ مقررہ معیارات سے زیادہ آلودہ پائے گئے

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

شمالی ہندوستان کی ریاستیوں دہلی، اتر پردیش، راجستھان، ہریانہ اور پنجاب میں ایک طرف جہاں لوگوں کو زہریلی ہوا کا سامنا ہے، وہیں اب سینٹرل گراؤنڈ واٹر بورڈ (سی جی ڈبلی وبی) کی ایک رپورٹ میں صاف پانی کے بحران کی بھی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ سالانہ گراؤنڈ واٹر کوالٹی رپورٹ 2025 میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر میں جمع کیے گئے نمونوں میں 13 میں سے 15 فیصد میں یورینیم کی آلودگی پائی گئی ہے۔

وزارت آبی وسائل کے تحت سنٹرل گراؤنڈ واٹر بورڈ کی یہ رپورٹ جمعہ کو جاری ہوئی ہے، جو 2024 میں ہندوستان بھر میں جمع کیے گئے تقریباً 15 ہزار پانی کے نمونوں پر مبنی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دہلی میں 86 مقامات پر زمینی پانی کی جانچ کی گئی اور ان میں سے بہت سے نمونے پینے کے لئے انڈین اسٹینڈرڈ بیورو کے ذریعہ مقررہ معیارات سے زیادہ آلودہ پائے گئے۔


رپورٹ میں کہا گیا ہے مجموعی طور پر اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان میں زمینی پانی پینے کے قابل ہے لیکن کچھ علاقوں میں یورینیم کی سطح بڑھ رہی ہے۔ اس لیے پینے کے پانی کے معیار کو یقینی بنانے اور صحت عامہ کی حفاظت کے لیے مستقل جانچ اور مقامی سطح پر بہتری ضروری ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 83 نمونوں کا تجزیہ کیا گیا، جن میں 24 نمونوں میں یورینیم کی سطح زیادہ پائی گئی۔ یہ جمع کیے گئے کل نمونوں کا تقریباً 13.35 سے 15.66 فیصد ہے۔

اس سلسلے میں سینٹرل گراؤنڈ واٹر بورڈ نے کہا کہ زیر زمین پانی میں یورینیم کی آلودگی کی سب سے زیادہ شمال مغربی ہندوستان میں پائی گئی، جن میں پنجاب، ہریانہ، دہلی، راجستھان کے کچھ حصے اور اتر پردیش شامل ہیں۔ امکان ہے کہ یہ آلودگی جغرافیائی وجہ سے زیر زمین پانی کی کمی اور دیگر عوامل کے سبب بڑھ رہی ہے۔


رپورٹ کے مطابق دہلی-این سی آر میں 33.33 فیصد نمونوں میں ای سی بہت زیادہ ہے، جو کہ وسیع پیمانے پر نمکیات کی نشاندہی کرتا ہے۔ اسی طرح فلورائیڈ 17.78 فیصد زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ 34.8 فیصد نمونوں میں ایس اے آر 26 کی حد سے زیادہ ہے اور51.11 فیصد آر سی سی زیادہ ہونے کے ساتھ آبپاشی کا سب سے زیادہ خطرہ ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔