’بہت خوفناک تھا، ہوٹل کے قریب ہو رہے تھے دھماکے‘، دبئی سے واپس آنے والے ہندوستانیوں نے سنائی آنکھوں دیکھی
ایران ۔امریکہ کے درمیان جاری جنگ کے بعد مشرق وسطیٰ کے ممالک کی جانب سے پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ جس کی وجہ سے کئی مسافر یا تو ایئرپورٹس پر پھنس گئے ہیں یا اپنے سفر کا پروگرام منسوخ کرنا پڑا ہے۔
ایران پر امریکہ اوراسرائیل کے مشترکہ حملے اور ایران کی جوابی کارروائی کے بعد مشرق وسطیٰ کے حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ کوئی یہ کہنے کی حالت میں نہیں ہے کہ ایک منٹ بعد کیا ہونے والا ہے۔ اس صورتحال نے دبئی سمیت دنیا کے کئی ممالک کے مسافروں کو بُری طرح متاثر کیا ہے۔ حملے اور جوابی حملے کے بعد کئی ممالک نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔ وہیں دبئی ایئرپورٹ بھی بند کرکے پروازوں کو منسوخ کردیا گیا ہے۔
اس دوران دبئی گھومنے گئے کئی مسافر وہاں پھنس گئے تھے۔ اسی اثنا میں دبئی سے ایک پرواز منگل (3 مارچ) کی صبح تقریباً 2 بجے ممبئی کے چھترپتی شیواجی مہاراج بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اُتری۔ یہاں ایک وقت بڑی افراتفری کا ماحول نظرآیا۔ اس دوران پرواز کےایک مسافر نے اپنی آنکھوں دیکھی صورت حال بیان کی۔ ’اے بی پی‘ نیوز کے مطابق ممبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پرایک مسافراجے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم ممبئی سے حیدرآباد اور پھر وہاں سے دبئی پہنچے تھے۔ دبئی سے ہماری اگلی فلائٹ امریکہ کے لیے تھی۔ ہم فلائٹ میں سوار ہوگئے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جب فلائٹ ٹیک آف نہیں ہوئی تو پتہ کیا گیا۔ پہلے کوئی تکنیکی خرابی بتائی گئی۔ اسی طرح 7-8 گھنٹے گزرگئے۔ اس کے بعد ہم لوگوں کو بتایا گیا کہ خلیج میں جنگ شروع ہوگئی ہے، اس لئے ابھی ہم پرواز کرنے کی حالت میں نہیں ہیں۔ اجے نے بتایا کہ اس کے بعد ہوائی اڈے پر بھگدڑ مچ گئی۔ حالات انتہائی خراب ہو چکے تھے۔ پھرایمریٹس کی بسیں اور گاڑیاں ایئرپورٹ پر پہنچیں اور ہمیں لے کر ہوٹلوں تک چھوڑ دیا۔ اس کے بعد ہم لوگ ساری رات ہوٹل کے لیے بھٹکتے رہے۔
انہوں نے بتایا کہ 10-12 گھنٹے بھٹکنے کے بعد بالآخر ہم لوگوں کو ایک ہوٹل مل گیا۔ اس دوران ہم لوگوں نے بم کی آواز بھی سنی اور برج خلیفہ کے ارد گرد دھویں کے غباربھی دیکھے۔ وہیں ہمیں ہوٹل سے باہر نکلنے یا کھڑکیوں کے پاس کھڑے ہونے سے سختی سے منع کیا گیا۔ اجے نے بتایا کہ ہم دوپہر کا کھانا کھائے بغیر اپنے کمروں میں ہی بند رہے۔ ہم اس بات سے بے خبر تھے کہ باہر کیا ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہاں ہر طرف افراتفری مچی ہوئی تھی۔ عوام بری طرح پریشان تھے، ہوٹلوں میں جگہ نہ ملنے کی وجہ سے ایسے ہی ادھر اُدھر لیٹے ہوئے تھے۔
اجے نے دبئی کی موجودہ صورتحال کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ حالات آہستہ آہستہ معمول پر آرہے ہیں، لیکن گزشتہ دو دنوں سے حالات بہت خراب تھے۔ آج وہاں کے لوگوں کو تھوڑا سکون ملا ہے۔ ممبئی پہنچنے پر اجے نے کہا کہ جیسے ہی ہمیں ممبئی کے لیے فلائٹ کے بارے میں معلوم ہوا، ہم نے ایمریٹس سے درخواست کی اور انہوں نے ہمیں گاڑی دستیاب کی اور ہم نے اپنی فلائٹ پکڑ لی۔ اسی طرح کچھ دیگر مسافروں کے چہروں سے بھی خوف صاف نظر آرہا تھا حالانکہ وہ واپس ممبئی پہنچ کر بڑی راحت محسوس کررہے تھے۔