مغربی ایشیا کشیدگی کے درمیان یو اے ای سے ہندوستان آنے والی پروازوں میں اضافہ، انخلا کا عمل تیز

مغربی ایشیا کشیدگی کے دوران یو اے ای سمیت کئی ممالک سے ہندوستان کے لیے پروازیں جاری ہیں۔ ہزاروں ہندوستانیوں کو مختلف راستوں سے واپس لایا جا رہا ہے اور حکومت مسلسل صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہے

<div class="paragraphs"><p>پرواز کی علامتی تصویر / آئی اے این ایس / اے آئی سے بہتر کی گئی</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے درمیان ہندوستان کے لیے فضائی آمد و رفت میں تیزی دیکھی جا رہی ہے اور پیر کے روز متحدہ عرب امارات سے تقریباً 95 پروازوں کے ہندوستان پہنچنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق خطے سے محدود تعداد میں خصوصی غیر شیڈول پروازیں بھی چلائی جا رہی ہیں، جبکہ سعودی عرب اور عمان سے معمول کے مطابق پروازیں جاری ہیں۔

قطر کا فضائی علاقہ جزوی طور پر کھلا ہوا ہے اور قطر ایئر ویز کی جانب سے ہندوستان کے لیے 8 سے 10 خصوصی پروازیں چلانے کا منصوبہ ہے۔ دوسری طرف کویت اور بحرین کا فضائی علاقہ اب بھی بند ہے، تاہم متبادل راستوں کے ذریعے پروازوں کا انتظام کیا گیا ہے۔ کویت کی جزیرا ایئر ویز سعودی عرب کے القیصومہ ہوائی اڈے سے جبکہ بحرین کی گلف ایئر دمام ہوائی اڈے سے ہندوستان کے لیے خصوصی پروازیں چلا رہی ہے۔

کویت، بحرین اور عراق میں پھنسے ہوئے ہندوستانی شہریوں کو سعودی عرب کے راستے وطن واپس لایا جا رہا ہے۔ اسی طرح ایران میں موجود ہندوستانیوں کو آرمینیا اور آذربائیجان کے ذریعے نکالنے کا عمل جاری ہے۔ اب تک ایک ہزار اکتیس ہندوستانیوں کو محفوظ مقامات تک منتقل کیا جا چکا ہے، جن میں سات سو سات طلبہ شامل ہیں۔

ایران کے تہران، اصفہان اور شیراز میں موجود ہندوستانی طلبہ کو ملک کے اندر ہی محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے، جبکہ اسرائیل میں موجود شہریوں کو اردن کے راستے واپس لانے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ حکومت ہند اس پورے عمل کو تیز رفتار بنانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ کسی بھی شہری کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔


وزیر اعظم نریندر مودی نے اس دوران عالمی رہنماؤں سے مسلسل رابطہ برقرار رکھا ہے۔ انہوں نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے گفتگو میں عید اور نوروز کی مبارکباد پیش کی اور امید ظاہر کی کہ یہ مواقع خطے میں امن اور استحکام کا سبب بنیں گے۔ انہوں نے اہم بنیادی ڈھانچے پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے عالمی سپلائی چین متاثر ہوتی ہے اور سمندری راستوں کو محفوظ اور کھلا رکھنا بے حد ضروری ہے۔

وزارت خارجہ مسلسل صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور ہندوستانی شہریوں کی سلامتی کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ چوبیس گھنٹے فعال کنٹرول روم کے ذریعے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ رابطہ برقرار ہے، جبکہ بیرون ملک ہندوستانی سفارت خانے بھی ہر ممکن مدد فراہم کر رہے ہیں۔ 28 فروری سے اب تک تقریباً تین اعشاریہ پچھتر لاکھ مسافر اس خطے سے ہندوستان واپس آ چکے ہیں اور فضائی خدمات بتدریج معمول پر آ رہی ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔