قوانین میں ترمیم کے یہ معنی نہیں کہ ان میں کوئی غلطی ہے: وزیر زراعت

زراعت اور دیہی ترقی و پنچایتی راج کے مرکزی وزیر نریندر سنگھ تومر نے جمعہ کے روز کہا کہ حکومت ہند نئے زرعی قوانین میں ترمیم کے لئے تیار ہے لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ قوانین میں کسی طرح کی غلطی ہے

مرکزی وزیر زراعت نریندر تومر / آئی اے این ایس
مرکزی وزیر زراعت نریندر تومر / آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: زراعت اور دیہی ترقی و پنچایتی راج کے مرکزی وزیر نریندر سنگھ تومر نے جمعہ کے روز کہا کہ حکومت ہند نئے زرعی قوانین میں ترمیم کے لئے تیار ہے لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ قوانین میں کسی طرح کی غلطی ہے۔ نریندر تومر صدر کے خطبہ پر شکریہ کی تحریک کے دوران ایوان بالا میں تقریر دے رہے تھے۔

مرکزی وزیر زراعت نے کہا کہ زرعی مصنوعات کی پیداوات کے کاروبار سے متعلق نئے قوانین میں التزام کیا گیا ہے کہ کسان اپنی پیداوار ملک میں کہیں بھی فروخت کر سکیں اور اے پی ایم سی کے باہر جو زرعی مصنوعات کا کاروبار ہوگا اس پر مرکزی یا ریاست کی جانب سے کوئی ٹیکس (فیس) بھی نہیں لگے گا۔


انہوں نے کہا کہ اے پی ایم سی منڈی کے اندر ریاستی حکومت کا قانون منڈی فیس عائد کرتا ہے جبکہ اے پی ایم سی منڈی کے باہر مرکز کے قانون میں کسی بھی طرح کی فیس کا التزام نہیں ہے۔ نئے زرعی قوانین کے حوالہ سے تحریک چلا رہی کسان تنظیموں کو دی گئی ترمیم کی تجویز پر انہوں نے کہا، ’’حکومت زرعی قوانین میں ترمیم کو تیار ہے لیکن اس کے یہ معنی قطعی نہیں ہیں کہ قوانین میں کوئی غلطی ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔