امرناتھ یاتری اور سیاح فوراً کشمیر چھوڑ کر چلے جائیں: جموں وکشمیر حکومت کی ایڈوائزری

جموں وکشمیر حکومت نے ایڈوائزری جاری کی جس میں وادی کشمیر میں موجود امرناتھ یاتریوں اور سیاحوں کو فوراً سے پیشتر واپس چلے جانے کے لئے کہا گیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

سری نگر: جموں وکشمیر حکومت نے جمعہ کے روز ایک ایڈوائزری جاری کی جس میں وادی کشمیر میں موجود امرناتھ یاتریوں اور سیاحوں کو فوراً سے پیشتر واپس چلے جانے کے لئے کہا گیا۔ ایڈوئزری میں کہا گیا ہے کہ انٹیلی جنس اطلاعات ہیں کہ یاترا کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔

ریاستی حکومت کی طرف سے جاری کی گئی اس ایڈوائزری نے وادی کشمیر میں شدید خوف وہراس پیدا کردیا ہے اور طرح طرح کی افواہوں و قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے۔ ایڈوئزری ریاستی محکمہ داخلہ کے پرنسپل سکریٹری شالین کابرا کی طرف سے جاری کی گئی ہے۔ اس کو 'سیکورٹی ایڈوائری' کا نام دیا گیا ہے جبکہ ایڈوائزری میں لکھا ہے کہ یہ حکومت جموں وکشمیر کے حکم سے جاری کی جارہی ہے۔

قبل ازیں وادی میں سیکورٹی اداروں نے امرناتھ یاترا پر حملوں کے منصوبوں کو ناکام بنانے کے دوران ایک لینڈ مائن اور ایک سنائپر رائفل برآمد کرنے کا دعویٰ کیا۔ سیکورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ امرناتھ یاترا کو نشانہ بنانے کے منصوبے بنانے والے ملی ٹنٹوں کو پاکستان اور پاکستانی فوج کی حمایت حاصل تھی کیونکہ جو لینڈ مائن برآمد ہوا وہ پاکستانی فوج کا تھا۔

دریں اثنا پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ جس طرح سے وادی کشمیر میں سیکورٹی فورسز کو متحرک کیا جارہا ہے اور تھانوں میں بقول ان کے کشمیر پولیس کو ایک طرف کرکے نیم فوجی اہلکاروں کو زیادہ ذمہ داریاں سونپی جارہی ہیں اس سے شک ہوتا ہے کہ کچھ ہونے والا ہے۔

بتادیں کہ مرکزی حکومت نے مرکزی نیم فوجی دستوں کی 100 اضافی کمپنیاں کشمیر روانہ کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں جس کے ساتھ ہی وادی میں یہ افواہیں گردش کرنے لگی ہیں کہ مرکزی حکومت دفعہ 35 اے کو منسوخ کرسکتی ہے۔

وادی میں نیم فوجی دستوں کی اضافی کمپنیوں کی تعیناتی کے اس ہنگامی اقدام نے وادی بھر میں خوف و ہراس کا ماحول برپا کردیا ہے۔ تاہم مرکزی اور ریاستی حکومت مرکزی نیم فوجی دستوں کی 100 اضافی کمپنیاں وادی بھیجنے کی ضرورت درکار پڑنے کی ٹھوس وجہ بیان کرنے پر خاموش ہیں۔ واضح رہے کہ جموں وکشمیر کو خصوصی پوزیشن عطا کرنے والی آئین ہند کی دفعہ 35 اے اس وقت عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت ہے۔

next