آبروریزی متاثرہ دلت نابالغ لڑکی کو امانت اللہ خاں نے دو لاکھ روپے سے مدد کی

رکن اسمبلی امانت اللہ خاں نے اوکھلا اسمبلی حلقہ کے جسولہ علاقہ میں گزشتہ دنوں آبروریزی کی شکار ہونے والی دلت طبقہ سے متعلق نابالغ لڑکی کے گھر جا کر مدد کے طور پر دو لاکھ روپے کا چیک پیش کیا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: رکن اسمبلی امانت اللہ خاں نے اوکھلا اسمبلی حلقہ کے جسولہ علاقہ میں گزشتہ دنوں آبروریزی کی شکار ہونے والی دلت طبقہ سے متعلق نابالغ لڑکی کے گھر جا کر مدد کے طور پر دو لاکھ روپے کا چیک پیش کیا۔ یہ اطلاع وقف بورڈ کی جاری کردہ ریلیز میں دی گئی ہے۔

ریلیز کے مطابق اوکھلا اسمبلی حلقہ کے جسولہ علاقہ میں گزشتہ دنوں دلت طبقہ سے تعلق رکھنے والی ایک نابالغہ کے ساتھ عصمت دری کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں پولس نے قانونی کارروائی کرتے ہوئے کئی سخت دفعات کے علاوہ پاکسو ایکٹ کے تحت کارروائی کرتے ہوئے ملزم نابالغ لڑکے کو جیل بھیج دیا۔ جس کے بعد متاثرہ خاندان پر ملزم کے خاندان کی جانب سے کچھ لے دیکر سمجھوتہ کرنے کے لئے دباؤ ڈالا جا رہا تھا۔ حلقہ کے ممبر اسمبلی امانت اللہ خان کو جیسے ہی اس کی اطلاع ملی انہوں نے متاثرہ لڑکی اور اس کے خاندان والوں سے ملاقات کر کے حالات کا جائزہ لیا اور ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی۔


امانت اللہ خان نے ہفتہ کے روز جسولہ متاثرہ پریوار کے گھر جا کر دو لاکھ کا چیک نابالغہ رانی (بدلا ہوا نام) کے حوالے کرتے ہوئے اسے بالکل بھی نہ گھبرانے اور مضبوطی کے ساتھ قانونی لڑائی لڑنے کا حوصلہ دیا۔ امانت اللہ خان نے اس دوران ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس سے قبل متاثرہ خاندان سے ملے تھے اور واقعہ کی پوری تفصیل لینے کے بعد اے سی پی، ایس ایچ او اور انہوں نے آئی او (تفتیشی افسر) سے بھی بات کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس معاملہ میں پولس سے سخت سے سخت قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے مگر کیونکہ متاثرہ ایک غریب دلت خاندان سے تعلق رکھتی ہے جسکی وجہ سے یہ قانونی لڑائی لڑنے کے لئے بھی پوری طرح سے مضبوط نہیں ہیں اس لئے دہلی وقف بورڈ کی جانب سے دو لاکھ روپئے کا چیک انھیں دیا ہے اور اگر متاثرہ خاندان چاہے گا تو ان کے لئے عدالت میں وکیل کا بھی انتظام کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ کہ متاثرہ کی پھوپھی نے انھیں بتایا کہ ملزم لڑکے کا تعلق دبنگ پریوار سے ہے اور وہ لوگ متاثرہ پر پیسوں کا لالچ دیکر سمجھوتہ کا دباؤ ڈال رہے ہیں۔ امانت اللہ خان نے کہا کہ انھوں نے اسی لئے دو لاکھ کا چیک متاثرہ کو دیا ہے تاکہ دباؤ میں یا پیسوں کی کمی کی وجہ سے وہ سمجھوتہ نہ کریں اور مضبوطی کے ساتھ اپنی لڑائی ملزمین کے خلاف لڑیں۔ امانت اللہ خان نے عصمت دری معاملہ میں نابالغ ملزمین کو جوینائل سسٹم کا فائدہ ملنے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس قانونی نظام میں اصلاح کی ضرورت ہے جس کا فائدہ عموما ملزمین اٹھا کر جلد چھوٹ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملزم جب عصمت دری کر رہا ہے تو وہ نابالغ کیسے ہوا؟ انہوں نے واضح طور پر قانون میں ترمیم کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ملزمین کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہئے۔


واضح رہے کہ جسولہ کے ایک سرکاری اسکول کی 9 ویں جماعت کی طالبہ، جس کی عمر 15 سال ہے، کو یکم دسمبر کو پڑوس کا ہی ایک لڑکا جسکی عمر 16سال بتائی گئی ہے، بہلا پھسلاکر ایک خالی مکان میں لے گیا تھا جہاں اس کے دوست بھی موجود تھے۔ وہاں ملزم لڑکے نے پہلے تو کمرہ میں اسے بند رکھا پھر رات کو اسے پانی میں کچھ نشیلی شئے پلا کر اسکی عصمت دری کی گئی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔