الطاف کے قتل کا مقدمہ درج، رنگ لائی اپوزیشن پارٹیوں کی کاس گنج آمد

کاس گنج کا 21 سالہ نوجوان الطاف ٹائلز لگانے کا کام کرتا تھا اور اس پر پڑوس کی ہی ایک اکثریتی طبقہ کی لڑکی کو بہلا پھسلا کر لے جانے کا مقدمہ درج تھا۔

تصویر بذریعہ آس محمد کیف
تصویر بذریعہ آس محمد کیف
user

آس محمد کیف

اتر پردیش کے کاس گنج واقع ننگلا سید علاقہ کے 21 سالہ نوجوان الطاف کی تھانے میں ہوئی موت کے چار دن بعد آج الطاف کے قتل کا مقدمہ درج ہو گیا ہے۔ الطاف کی موت کو کاس گنج پولیس نے خودکشی قرار دیا تھا اور حیرت انگیز طریقے سے بیت الخلا کی ٹنکی سے لٹک کر خودکشی کی بات کہی تھی۔ اس طرح کی باتوں کی بڑے پیمانے پر تنقید ہوئی تھی اور پولیس کو کٹہرے میں کھڑا کیا جا رہا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ کاس گنج کا الطاف ٹائلز لگانے کا کام کرتا تھا اور اس پر پڑوس کی ہی ایک اکثریتی طبقہ کی لڑکی کو بہلا پھسلا کر لے جانے کا مقدمہ درج تھا۔ 8 نومبر کو پولیس اسے گھر سے پوچھ تاچھ کے لیے تھانے لے کر گئی تھی اور اس کے اگلے دن اس کی موت ہو گئی۔ کاس گنج پولیس نے بتایا تھا کہ الطاف نے اپنی جیکٹ کے ناڑے سے پانی کی ٹنکی میں پھانسی لگا کر خودکشی کر لی۔ 2 فیٹ کی ٹنکی سے ساڑھے پانچ فیٹ کے الطاف کی پھانسی کی بات کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہی تھی۔ اس دوران الطاف کے والد چاند میاں کا ایک خط بھی موضوع بحث بنا تھا جس میں انھوں نے پولیس کی پولیس کی بات پر اتفاق ظاہر کیا تھا۔ حالانکہ بعد میں انھوں نے کہا کہ وہ اَن پڑھ ہے اور انھیں نہیں معلوم کہ اس خط میں کیا لکھا ہوا تھا۔

الطاف کے قتل کا مقدمہ درج، رنگ لائی اپوزیشن پارٹیوں کی کاس گنج آمد

گزشتہ چار دنوں سے لگاتار مختلف سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں نے کاس گنج میں الطاف کے گھر پہنچ کر ان کا غم بانٹا تھا۔ اس دوران کانگریس، سماجوادی پارٹی اور آر ایل ڈی لیڈران نے الطاف کے والد سے ملاقات کر انھیں ہمت دی۔ آج بھیم آرمی سربراہ چندرشیکھر آزاد بھی ان کے گھر پہنچے اور الطاف کے والد کو اپنے ساتھ لے کر افسران سے ملے اور الطاف کے قتل کا مقدمہ درج کرایا۔

ایف آئی آر الطاف کے والد چاند میاں کی طرف سے درج کرائی گئی ہے اس میں انھوں نے بتایا ہے کہ 8 نومبر کو ان کے بیٹے الطاف کو گھر سے کچھ پولیس اہلکار تھانے بلا کر لے گئے تھے۔ تب اس نے بھی ساتھ چلنے کے لیے کہا تھا مگر اسے ڈانٹ کر واپس بھیج دیا گیا۔ 9 نومبر کو اس کے بعد مجھے اسپتال بلایا گیا اور بتایا گیا کہ میرے بیٹے نے خودکشی کر لی ہے۔ جس ٹونٹی سے لٹک کر خودکشی کرنے کی بات بتائی گئی وہ صرف 2 فیٹ کی ہے۔ میرا بیٹا 5 فیٹ کا ہے۔ میرے بیٹے کا قتل سازش کے تحت کیا گیا ہے۔ اس کے بعد مجھ سے ایک کاغذ پر انگوٹھا لگوا لیا گیا جب کہ میں اَن پڑھ ہوں۔ میں نے کسی بھی انتظامی افسر سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا ہے۔

الطاف کے قتل کا مقدمہ درج، رنگ لائی اپوزیشن پارٹیوں کی کاس گنج آمد

ایف آئی آر درج ہونے کے بعد الطاف کے والد نے ہمارے ساتھ بات چیت میں بتایا کہ گزشتہ چار دنوں سے اس نے بے بسی کے آنسو روئے ہیں۔ وہ ایک بے حد غریب آدمی ہیں، ان کا کوئی سہارا نہیں ہے۔ مختلف سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں نے ان کے گھر آ کر اسے جو ہمت دی، اسی وجہ سے مقدمہ درج ہوا ہے۔ وہ سبھی کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ حالانکہ انھیں افسوس ہے کہ برسراقتدار طبقہ کا کوئی لیڈر ان کے گھر ان کا غم بانٹنے نہیں پہنچا۔ آخر میں بھی تو اسی ملک کا شہری ہوں۔

گزشتہ چار دنوں سے الطاف کے گھر ہی ڈٹے سماجوادی پارٹی ترجمان عبدالحفیظ گاندھی نے اس مقدمے کے درج ہونے کے بعد ملزمین کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے ہم سے کہا کہ الطاف کی موت کا مقدمہ درج کرانے کے لیے چار دن تک نبرد آزما ہونا حکومت کی انصاف کرنے کی منشا کو واضح کرتا ہے۔ اب بھی مقدمہ نامعلوم کے خلاف درج کیا گیا ہے۔ حالانکہ مقدمہ درج ہونا انصاف کی سمت میں ایک قدم آگے بڑھنا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔