حکومت ترجیحات درست کرے، جموں و کشمیر میں بے روزگاری تشویش کن معاملہ: الطاف بحاری

6 لاکھ تعلیم یافتہ نوجوانوں نے 1800 اکاؤنٹ اسسٹنٹ آسامیوں سمیت 10 ہزار درجہ چہارم ملازمتوں کے لئے درخواستیں دی ہیں، جس سے جموں وکشمیر میں بے روزگاری کا پتہ چلتا ہے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

’اپنی پارٹی ‘ کےصدر سید محمد الطاف بخاری نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر میں بڑھتی بے روزگاری حکومت ہند کے لئے تشویش کن معاملہ ہونا چاہئے اور اس کے ازالہ کے لئے جامع روزگار پالیسی لائی جانی چاہئے۔

ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کونسل کے لئے جاری مہم کے سلسلے میں شمالی کشمیر کے ہندواڑہ میں منعقدہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے بخاری نے کہا کہ حالیہ مشتہر درجہ چہارم اسامیوں میں جموں و کشمیر سے کثیر تعداد میں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی طرف سے جمع کی گئی درخواستیں دہلی کے پالیسی سازوں کے لئے چشم کشا ہونی چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ ’’چھ لاکھ تعلیم یافتہ نوجوانوں نے 1800 اکاؤنٹ اسسٹنٹ آسامیوں سمیت 10 ہزار درجہ چہارم ملازمتوں کے لئے درخواستیں دی ہیں، جس سے جموں وکشمیر میں بے روزگاری کا پتہ چلتا ہے، حکومت ہند کو ہمارے اعلیٰ تعلیم یافتہ بے روزگارنوجوانوں میں مایوسی کی سطح کا تصور کرنا چاہئے'۔

حالیہ سروے کا حوالہ دیتے ہوئے بخاری نے کہا کہ 2.5 لاکھ تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوان جس میں پی ایچ ڈی اسکالر، ایم فل طلبا اور پوسٹ گریجویٹ شامل ہیں، نے گزشتہ برس محکمہ روزگار کی طرف سے جموں وکشمیر میں بے روزگار افراد کی تعداد کا پتہ لگانے کے لئے شروع کی گئی مہم کے دوران اپنا اندراج کرایا ہے اور اس میں وہ کثیر تعداد میں گریجویٹ اور انڈر گریجویٹ شامل نہیں ہیں جنہوں نے اپنا رجسٹریشن نہیں کرایا تھا۔

انہوں نے کہا کہ بہت سارے بے روزگار تعلیم یافتہ نوجوانوں کا یہ الزام جائز ہے کہ دہائیوں پرانی بد نظمی، ناقص انتظامیہ اوراقتدار کے گلیاروں میں رشوت خوری نے جموں وکشمیر کو پیچھے دھکیل دیا ہے جوکہ ملک کی ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں میں بے روزگاری کے معاملہ میں دوسرے نمبر پر آتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next