مجوزہ حد بندی کمیشن رپورٹ ناقابل قبول :الطاف بخاری

الطاف بخاری نے کہا ہے کہ حالیہ تجویز ملک کے اندر حد بندی کے لئے بنائے گئے قوانین کے جورہنما خطوط اور عمل ہیں، ان کے کلی طور خلاف ہے۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

’جموں وکشمیر اپنی پارٹی ‘ کے صدر سید محمد الطاف بخاری نے کہا ہے کہ حالیہ مجوزہ حد بندی کمیشن رپورٹ سال 2011 کی مردم شماری سے مطابقت نہیں رکھتی لہٰذا جموں وکشمیر کی عوام کو یہ ناقابل قبول ہے۔

حد بندی کمیشن کی تجویز سے متعلق میڈیا رپورٹس کے حوالے سے پارٹی صدر نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن نے میرٹ اور عوامی مطالبات کو درکنار رکھ کر رپورٹ تیار کی ہے اور یہ لوگوں کے خدشات کی تصدیق کرتی ہے۔


انہوں نے کہاکہ ”حالیہ تجویز ملک کے اندر حد بندی کے لئے بنائے گئے قوانین کے جورہنما خطوط اور عمل ہیں، ان کے کلی طور خلاف ہے۔ واضح رہے رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ جمو خطہ میں چھہ اسمبلی سیٹوں کا اضافہ کیا جائے اور وادی میں ایک اسمبلی سیٹ کا اضافہ کیا جائے۔ کشمیر کی بڑی سیاسی پارٹیوں نے ان تجاویز کی مخالفت کی ہے۔

اُن کے مطابق ضلع کا رقبہ اور متعلقہ آبادی کے اعدادوشمار سال 2011 کی مردم شماری کے مطابق ہونے چاہئے تھے جوکہ نامعلوم وجوہات کی بنا پر رپورٹ سے غائب ہیں۔نہ صرف آبادی زمرہ کو نظر انداز کیا گیا ہے بلکہ ایسا لگتا ہے کہ کمیشن نے موجودہ انتظامی اکائیوں کی نمائندگی کی ضروریات کو ختم کر دیا ہے۔


بخاری نے حکومت ہند پرزور دیا ہے کہ وہ معاملہ میں مداخلت کر کے یقینی بنائے کہ کمیشن موجودہ رپورٹ پر نظر ثانی کرے اور میرٹ کی بنیاد پر یہ تیار کی جائے۔

انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ حد بندی کمیشن کی مجوزہ رپورٹ موجود صورت میں کسی بھی صورت میں قبول نہیں اور اپنی پارٹی حکومت ِ ہند سے اپیل کرتی ہے کہ اِس معاملے کو سنجیدگی سے لے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔