قومی

ایس پی-بی ایس پی اتحاد مودی کے لئے بڑا چیلنج

لوک سبھا کی سیٹوں کے لحاظ سے سب سے بڑی ریاست اترپردیش کی ایس پی اور بی ایس پی نے اتحاد کر کے وزیراعظم نریندر مودی کی مسلسل دوسرے مرتبہ ملک کی باگڈور سنبھالنے کی راہ میں ایک بڑا چیلنج پیش کر دیا ہے۔

تصویر یو این آئی

یو این آئی

لوک سبھا کی سیٹوں کے لحاظ سے سب سے بڑی ریاست اترپردیش کی سیاست میں گزشتہ تین عشروں میں اہم کردار ادا کررہی سماج وادی پارٹی (ایس پی) اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) نے ایک ساتھ انتخاب لڑنے کا اعلان کرکے وزیراعظم نریندر مودی کی مسلسل دوسرے مرتبہ ملک کی باگڈور سنبھالنے کی راہ میں ایک بڑا چیلنج پیش کردیا ہے۔

گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو واضح اکثریت دلانے اور مسٹر مودی کو وزیراعظم بنانے میں اترپردیش کا بہت بڑا کردارتھا۔ اس انتخابات میں بی جے پی نے ریاست کی 80 میں سے 71 سیٹوں پر جیت حاصل کی تھی ۔ ایس پی پانچ اور کانگریس دو سیٹیں جیت پائی تھی جبکہ بی ایس پی کا کھاتہ بھی نہیں کھل پایا تھا۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی

گزشتہ عام انتخابات اور 2017 میں ہوئے ریاستی اسمبلی الیکشن میں بی جے پی کو واضح اکثریت ملی تھی لیکن اگر اسے ایس پی اور بی ایس پی کے ووٹوںکو دیکھا جائے تو اگلے عام انتخابات میں دونوں پارٹیوں کا اتحاد بی جے پی کے لئے مشکل پیدا کرسکتی ہے۔

بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے اتحاد کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایس پی۔ بی ایس پی کا ساتھ آنا مسٹر مودی اور بی جےپی صدر امت شاہ کی نیند اڑا دے گی۔

سیاسی ماہرین کے مطابق پانچ برس قبل ہوئے لوک سبھا انتخابات کے وقت ریاست میں بی جے پی، ایس پی، بی ایس پی اور کانگریس کے درمیان چہار رخی مقابلہ ہوا تھا۔ بی جے پی کو 42 فیصد سے کچھ زیادہ ووٹ ملے تھے۔ ایس پی کو 35ء22 فیصد اور بی ایس پی کو 77ء19 فیصد ووٹ ملے تھے۔ ان دونوں پارٹیوں کے ووٹوں کو ملادیا جائے تو وہ بی جے پی کے برابر پہنچ جاتی ہے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
ماہرین کا کہنا ہے کہ انتخابات میں ووٹنگ کبھی بھی ایک طرح کی نہیں ہوتی ہے لیکن 2014 کی طرح ہی اگلی مرتبہ بھی ووٹنگ ہوتی ہے تو بی ایس پی اور ایس پی کے ساتھ آنے سے بی جے پی کی سیٹوں میں کمی آنا یقینی ہے۔

یہاں یہ بات بھی غور کرنے والی ہے کہ 2014 میں ملک میں کانگریس کی قیادت والی ترقی پسند اتحاد حکومت کے خلاف ماحول تھا جبکہ اگلے انتخابات میں مسٹر مودی اور ان کی حکومت کی کارکردگی اہم مسئلہ ہوگا۔

گزشتہ اسمبلی انتخابات کی بات کی جائے تو ریاست میں سہ رخی مقابلہ ہواتھا اور اس میں بی جے پی اتحاد کو زبردست کامیابی ملی تھی۔ اسمبلی الیکشن ایس پی اور کانگریس مل کر لڑی تھی جبکہ بی ایس پی نے اکیلے انتخابات لڑا تھا۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی

اس انتخابات میں بی جے پی اتحاد کو ملے ووٹوں میں لوک سبھا انتخابات کے مقابلے میں کمی آئی تھی لیکن اسے 41 فیصدسے کچھ زیادہ ووٹ ملے تھے۔ دیگر پارٹیاں سیٹوں کے معاملے میں تو بی جے پی سے تو کافی پیچھے رہی تھیں لیکن ایس پی اور بی ایس پی میں سے ہر ایک نے تقریبا 22 فیصد ووٹ حاصل کئے ۔ ان کے ووٹوںکو ملا دیا جائے تو یہ بی جے پی اتحاد کو ملے ووٹوں سے زیادہ ہوتا ہے۔

ایس پی۔ بی ایس پی اتحاد کو ریاست کی عوام کس طرح سے لیتی ہے یہ تو آنے والے انتخابات سے ہی واضح ہوگا لیکن ان دونوں پارٹیوں نے ایک ساتھ آکر گزشتہ سال ریاست میں ہوئے لوک سبھا کے تین ضمنی انتخابات میں بی جے پی کو جس طرح شکست دی اس سے لگتا ہے کہ بی جے پی کو ریاست میں زبردست مقابلہ سے گذرنا ہوگا۔ گزشتہ ماہ کانگریس کے ہاتھوں تین ریاستوں مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ گنواچکی بی جے پی کے لئے اترپردیش کا نیا سیاسی اتحاد سردرد ثابت ہوسکتا ہے۔

Published: 13 Jan 2019, 9:10 AM