اگرتلہ میں بی جے پی روپے وصولنے کا کام کر رہی ہے

تریپورا میں کانگریس کی ایک خاتون کارکن نے بی جے پر الزام لگایا ہے کہ وہ ریاست میں عوام سے روپے وصولنے کا کام کر رہی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

تریپورا کے اگرتلہ میں بی جے پی پر الزام لگ رہے ہیں کہ وہ پیسہ اینٹھنے کا کام کر رہی ہے۔ اگرتلہ کے جنوبی چندرپور گاؤں میں رہنے والی خاتون کانگریس رکن نے کہا ہے کہ بی جے پی عوام سے ناجائز پیسہ وصولی کر رہی ہے۔ کانگریس کی رکن روپا ڈے نے اس تعلق سے پولس میں ایک شکایت بھی درج کرائی ہے۔ روپا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’لوک سبھا انتخابات کے نتیجے آنے کے بعد سے میرے خاندان اور مجھے لگتار دھمکیاں مل رہی ہیں۔ ہم پر حملے کیے جا رہے ہیں۔ مجھے ایک خط ملا ہے اس کے ذریعہ بی جے پی اور ان کے کارکنان نے میرے خاندان سے تاوان کے طور پر 20 ہزار روپے مانگے ہیں‘‘۔

روپا ڈے نے مزید کہا ہے کہ وہ بی جے پی کارکنان کی دھمکی کی وجہ سے 23 مئی سے اپنے گھر نہیں گئی ہیں۔ تھانہ انچارج مانک دیبناتھ نے روپا ڈے کے ذریعہ کیس درج کرانے کی تصدیق کی ہے۔ تھانہ انچارج نے کہا ہے ’’ہمیں چندر پور علاقہ سے شکایت ملی ہے۔ تاوان کی شکل میں روپے وصولی کے کم از کم سات سے آٹھ لوگوں کو خط ملے ہیں۔ اس سارے معاملہ کی جانچ کی جار رہی ہے‘‘۔

ادھر بی جے پی کے ترجمان نبیندو بھٹاچاریہ نے اس طرح کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہم کسی سے روپے کی وصولی نہیں کرتے ہیں کیونکہ یہ پارٹی کی پالیسی کے خلاف ہے۔ ہمارے یہاں چندا لینے کا ضابطہ ہے‘‘۔ نبیندو نے اس بات کا اعتراف کیا کہ انہیں اس بات کی اطلاع ہے کہ کچھ لوگ بی جے پی کارکن بن کر تاوان کے طور پر روپے وصولنے کا کام کر رہے ہیں لیکن انہوں نے اس بات سے انکار کیا کہ کوئی بی جے پی کا حقیقی کارکن روپے وصول کرنے کا کام نہیں کر رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔