علامہ اقبال: ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم– برتھ ڈے اسپیشل

علامہ اقبال کو اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے 80 برس ہو گئے لیکن ان کی پیغمبرانہ شاعری کا افتخار گزرتے وقت کے ساتھ بڑھتا ہی جاتا ہے۔ اس افتخار کا بنیادی سبب وہ انقلابی فکر تھی جس نے انھیں شاعر مشرق بنایا۔

By آفتاب احمد منیری

فکر و نظر کے پیمانے پر وہی شعر و ادب اپنے لازوال ہونے کا اعتراف کراتا ہے جو زمان و مکان کی سرحدوں سے بالاتر ہو۔ اس قسم کےا علیٰ شعر و ادب کی تخلیق کا مقصد ان صالح اقدار کی تبلیغ ہے جن سے ہماری معاشرتی زندگی بنتی اور سنورتی ہے۔ اس اعلیٰ معیاری شعر و ادب کے پیامبر چمکتے سورج کی مانند جلوہ گر ہوتے ہیں جس کی روشن کرنیں کائنات کے ذرے ذرے کو منور کر دیتی ہے۔

آسمانِ ادب کے ان درخشندہ ستاروں میں ایک اہم ترین نام شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ اقبال کا ہے۔ شعر و ادب کے تشنہ لبوں کو مئے نوشی کے آداب سکھانے والے اقبال اپنے بے نظیر تخیل اور نرالے انداز بیان کے سبب اردو نظم کے سب سے عظیم شاعر تسلیم کیے جاتے ہیں۔ لیکن ان کی غزلیں بھی کسی درجہ کم نہیں۔ کلام اقبال کا جادو ان کی غزلوں میں بھی سر چڑھ کر بولتا ہے۔

علامہ اقبال کو اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے 80 برس ہو گئے لیکن ان کی پیغمبرانہ شاعری کا افتخار گزرتے وقت کے ساتھ بڑھتا ہی جاتا ہے۔ اس افتخار کا بنیادی سبب وہ انقلابی فکر تھی جس نے انھیں شاعر مشرق بنایا۔ اقبال کی شاعری دراصل کائنات کی اٹل سچائیوں کا اعتراف ہے جس میں تعمیر حیات کا پہلو سب سے نمایاں ہے۔ یہاں عام شاعروں کی طرح شکست اور محرومی، ناامیدی اور زندگی سے فرار کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ شاید اس لیے کہ:

فروغ کہکشاں کو ناز ہے جن کی جبینوں پر

یہ تلقینِ خودی پیدا کی وہ نوجواں تو نے

انھیں کے زور بازو سے ہے اب گردش زمانے کی

بدل کر رکھ دیا آخر مزاج آسماں تو نے

اقبال کے بارے میں یہ معلوم بات ہے کہ وہ ایک فلسفی شاعر تھے۔ زندگی اور مقصد زندگی کے حوالے سے جتنے فکر انگیز خیالات اقبال نے پیش کیے ہیں، اردو ادب کی تاریخ میں اس کی دوسری مثال نہیں ملتی۔ اس انقلابی فکر کی آبیاری میں ان کے والدین کی مثالی تربیت کا خصوصی کردار رہا ہے۔ ان کے والد شیخ نور محمد متقی اور پرہیزگار مسلمان تھے۔ ان کی تربیت کا ہی اثر تھا کہ اقبال کے اندر بچپن سے ہی قرآن حکیم کی تلاوت کا شوق، حسن اخلاق اور بزرگوں کا احترام جیسی خوبیاں پروان چڑھیں اور جزو زندگی بن گئیں۔ والد بزرگوار نے ایک بار اقبال کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا ’’بیٹا جب تلاوت کیا کرو تو یہ جان کر قرآن پڑھا کرو کہ یہ تم پر ہی نازل ہوا ہے۔‘‘ یہ نصیحت اتنی اہم اور غیر معمولی تھی کہ اس نے اقبال کی شخصیت اور شاعری پر انقلابی اثرات مرتب کیے۔ بقول اکبر الٰہ آبادی:

حضرت اقبال میں جو خوبیاں پیدا ہوئیں

قوم کی نظریں جو ان کے طرز کی شیدا ہوئیں

اس کے شاہد ہیں کہ ان کے والدین ابرار تھے

باوفا تھے اہل دل تھے صاحب اسرار تھے

قرآن حکیم کے بارے میں اقبال اپنے والد محترم کی نصیحت پر تادم حیات سختی کے ساتھ عمل پیرا رہے۔ کلام اقبال کا مطالعہ کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ ان کے شاعرانہ تخیل میں انقلابی افکار کی آمد تعلیم قرآن کے مرہون منت ہے۔

اقبال نوجوانوں کو قوم کا بیش قیمتی سرمایہ تصور کرتے تھے۔ لہٰذا ان کی پیامی شاعری کا بنیادی کردار قوم کا نوجوان ہی ہے۔ وہ تعلیم کے شعبے میں قوم کو سب سے آگے دیکھنا چاہتے تھے۔ ان کی یہ شدید خواہش تھی کہ قوم کے نوجوان ام الکتاب قرآن حکیم سے اپنا رشتہ جوڑیں۔ لیکن مسلم نوجوانوں کی تعلیم سے دوری اور بے مقصد زندگی دیکھ کر انھیں سخت مایوسی ہوتی تھی۔ مندرجہ ذیل اشعار علامہ کے ان ہی احساسات کے آئینہ دار ہیں:

خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کر دے

کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں

تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو

کتاب خواں ہے مگر صاحب کتاب نہیں

نیلگوں آسمان کی وسعتوں میں اڑتے پرندوں نے ہمیشہ انسان کی فکر کو شوق پرواز عطا کی ہے۔ آسمان کے ان ہی پرندوں میں سے ایک خاص پرندے ’شاہین‘ کی پرواز اقبال کو اس قدر پسند آئی کہ انھوں نے اسے اپنی شاعری کا محبوب استعارہ بنا دیا۔

اقبال کے یہاں ’شاہین‘ شجاعت، دانائی، عزت نفس، دور اندیش اور خود اعتمادی کا استعارہ ہے۔ یہی وہ اعلیٰ ترین انسانی خصلتیں ہیں جو کسی قوم کو زندگی عطا کرتی ہیں۔ اقبال کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے پرندوں کی دنیا میں سے ایک ایسے پرندے کا انتخاب کیا جو اپنے اندر شانِ درویشی رکھتا ہے اور اس کی نظر آسمان کی بلندیوں پر رہتی ہے۔ اقبال کا ’شاہین‘ قوم کا وہ مثالی نوجوان ہے جو کچھ اس شاہانہ انداز سے زندگی بسر کرتا ہے:

تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا

تیرے سامنے آسماں اور بھی ہیں

---

پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں

کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور

---

نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر

تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

شاعر کے یہاں بنیادی طور پر قول و فعل کا تضاد پایا جاتا ہے۔ یعنی اس کی خود کی زندگی ان افکار و نظریات سے بالکل جدا ہوتی ہے جنھیں وہ اپنے کلام میں پیش کرتا ہے۔ لیکن شاعر مشرق اقبال کا امتیاز یہ ہے کہ ان کی شخصیت بھی ان کی شاعری کے سانچے میں ڈھلی ہے۔ اور اس امتیاز کا واضح سبب یہ ہے کہ اقبال کی ذہنی و فکری نشو و نما قرآنی ہدایات کی روشنی میں ہوئی۔ جب وہ اعلیٰ تعلیم کی غرض سے لندن اور جرمنی میں قیام پذیر ہوئے تو بھی نہ ان کی نمازیں قضا ہوئیں اور نہ ہی وہ تلاوت قرآن سے غافل ہوئے۔ ان کا یہ شعر اس سلسلے میں دلیل راہ کی حیثیت رکھتا ہے:

زستانی ہوا ہی گرچہ تھی شمشیر کی تیزی

نہ چھوٹے مجھ سے لندن میں بھی آداب سحر خیزی

ایک موقع پر طلبہ کا ایک گروپ ان کی خدمت چند سوالات لے کر گیا۔ ان کو اندازہ تھا کہ اقبال فلسفہ اور قانون کی کتابوں کے حوالے سے جواب دیں گے۔ لیکن اقبال نے قرآن حکیم کھول کر سوالات کا تشفی بخش جواب دیا۔ یہ منظر دیکھ کر طلبہ کا وفد حیران رہ گیا۔ لیکن علامہ اقبال اس راز سے واقف تھے۔ اس لیے کہ انھوں نے قرآن کریم کو ہدایت کے بنیادی سرچشمہ کی حیثیت سے قبول کیا تھا۔

اقبال کی شاعری میں پنہاں فکر و آگہی انہیں شاعر فردا ثابت کرتی ہے۔ اپنے وقت میں وہ مظلوم اقوام کی سب سے مضبوط آواز بن کر ابھرے۔ اور آج بھی ان کی انقلابی شاعری ہمیں زندگی کا پیغام دے رہی ہے۔ مقاصد زندگی کے ساتھ عشق کی کیفیت نے اقبال کو اقبال بنایا۔ وہ اس جذبۂ عشق کو قوم کے نوجوانوں میں بیدار کرنا چاہتے تھے۔ لہٰذا انھوں نے اللہ کے حضور بڑی دل سوزی اور درد مندی کے ساتھ یہ دعائیں کی تھیں:

جوانوں کو مری آہ سحر دے

پھر ان شاہین بچوں کو بال و پر دے

خدایا آرزو میری یہی ہے

مرا نور بصیرت عام کر دے