لکھنؤ: ای-رکشہ رجسٹریشن میں مقامی رہائش کی شرط ختم، ہائی کورٹ نے محکمہ ٹرانسپورٹ کی پابندی کو غیر آئینی قرار دیا
الہٰ آباد ہائی کورٹ نے لکھنؤ میں ای-رکشہ کے اندراج کے لیے مقامی رہائش کی شرط غیر آئینی قرار دے کر منسوخ کر دی۔ عدالت نے کہا کہ یہ پابندی مساوات اور روزگار کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے

لکھنؤ: الہٰ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے ای-رکشہ کے اندراج کے لیے مقامی رہائش کی لازمی شرط کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے منسوخ کر دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ یہ شرط مساوات، کاروبار کی آزادی اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی واضح خلاف ورزی ہے۔ یہ فیصلہ جسٹس شیکھر بی صراف اور جسٹس برج راج سنگھ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے 4 درخواستوں پر سماعت کے بعد سنایا۔
درخواست گزاروں نے عدالت کو بتایا کہ 5 فروری 2025 کو لکھنؤ کے اسسٹنٹ سب ڈویژنل ٹرانسپورٹ افسر نے ایک حکم جاری کیا تھا جس میں ای-رکشہ رجسٹڑیشن سے متعلق دو نئی پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ پہلی پابندی کے مطابق جس شخص کے نام پر پہلے سے ایک ای-رکشہ درج ہے، وہ نیا رکشہ درج نہیں کرا سکتا۔ دوسری پابندی یہ تھی کہ صرف لکھنؤ کے مستقل رہائشی افراد کو ہی نئے ای-رکشہ کا اندراج کرانے کی اجازت دی گئی تھی۔ درخواستوں میں مستقل رہائش سے متعلق اسی شرط کو چیلنج کیا گیا تھا۔
ریاستی حکومت نے جواب میں کہا کہ کرایے پر رہنے والے ای-رکشہ مالکان کا پتا اکثر تبدیل ہوتا رہتا ہے، جس کی وجہ سے فٹنس کی معیاد ختم ہونے یا دیگر نوٹس بھیجنے میں دشواری پیش آتی ہے۔ عدالت نے اس دلیل کو کمزور اور غیر معقول قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ بنچ کا کہنا تھا کہ کرایے پر رہائش رکھنا، کسی شخص کو اندراج سے محروم رکھنے کی مناسب بنیاد نہیں بن سکتا۔ یہ طرزِ عمل امتیازی ہے اور آئینی اصولوں کے خلاف ہے۔
عدالت نے متبادل انتظامی طریقے بھی تجویز کرتے ہوئے کہا کہ اگر ای-رکشوں کی تعداد پر کنٹرول مطلوب ہے تو سالانہ محدود تعداد میں اندراج جاری کیے جا سکتے ہیں یا غیر مجاز اور بغیر فٹنس سرٹیفکیٹ کے چلنے والے رکشوں کے خلاف سخت کارروائی کی جا سکتی ہے لیکن مستقل رہائش نہ ہونے کی بنیاد پر اندراج سے انکار کرنا اختیارات کا من مانی استعمال ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ہر شہری کو ہندوستان کے کسی بھی حصے میں روزگار اور کاروبار کرنے کا بنیادی حق حاصل ہے، لہٰذا ایسی شرط ان کے آئینی حقوق کو متاثر کرتی ہے۔ عدالت کے اس فیصلے سے لکھنؤ سمیت پورے اتر پردیش میں ہزاروں ای-رکشہ ڈرائیوروں کو بڑا ریلیف ملنے کی امید ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔