عدالت کا تبصرہ افسوسناک، سپریم کورٹ کواز خود نوٹس لینا چاہئے: رام گوپال

رام گوپال نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ اس معاملے کا ازخود نوٹس لے اور ایسی ہدایات دینے والوں کے خلاف کارروائی کرے۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکن پروفیسر رام گوپال یادو نے الہ آباد ہائی کورٹ کے ایک جج کے اس تبصرہ کو افسوسناک قرار دیا ہے جس میں انہوں نے کورونا وائرس کے انفیکشن کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظرالیکشن کمیشن سے اتر پردیش اسمبلی انتخابات کو ملتوی کرنے کی درخواست کی ہے۔ پروفیسر یادو نے سپریم کورٹ سے اس تبصرہ پر از خود نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ کے جج شیکھر یادو نے جمعرات کو ضمانت کی درخواست کا حکم دیتے ہوئے الیکشن کمیشن سے کہا کہ وہ اتر پردیش میں آئندہ اسمبلی انتخابات کو ملتوی کرے اور کووڈ کی نئی شکل کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر انتخابی ریلیوں پر پابندی عائد کرے۔


پروفیسر یادو نے کہا کہ ہائی کورٹ کی جانب سے اس طرح کی درخواست افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ سپریم کورٹ اس معاملے کا ازخود نوٹس لے اور ایسی ہدایات دینے والوں کے خلاف کارروائی کرے۔ اسے غیر ضروری تبصرہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس طرح کا مطالبہ کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں کوئی اپیل بھی دائر نہیں کی گئی۔سپریم کورٹ اس کا نوٹس لے اور کارروائی کرے۔

واضح رہے ہائی کورٹ کی اس بن مانگی رائے پر سیاسی حلقوں میں تبصرے شروع ہو گئے ہیں اور بہت سے مبصرین کا ماننا ہے کہ اب اس درخواست کو بنیاد بنا کر اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات ملتوی کئے جا سکتے ہیں اور چھہ ماہ کے لئے صدر راج لاگو کیا جا سکتا ہے ۔ کچھ کا ماننا ہے کہ اس سے مرکزی حکومت وزیر اعلی یوگی کو بھی ہٹا سکتی ہے اور حکومت کی شبیہ کو درست کر سکتی ہے ۔ اب سب کو اس کا انتظار ہے کہ انتخابی کمیشن کا اس سارے معاملہ پر کیا رخ رہتا ہے۔ (یو این آئی کے انپٹ کے ساتھ)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔