مشکل میں پی ایم مودی، الٰہ آباد ہائی کورٹ نے جاری کیا نوٹس، 21 اگست تک دینا ہوگا جواب

الٰہ آباد ہائی کورٹ نے پی ایم نریندر مودی کو نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت نے نوٹس کا جواب 21 اگست تک مانگا ہے۔ بی ایس ایف کے برخواست سپاہی تیج بہادر کی عرضی پر جسٹس منوج کمار گپتا سماعت کر رہے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

الٰہ آباد ہائی کورٹ نے وارانسی سے رکن پارلیمنٹ منتخب کیے گئے پی ایم مودی کے خلاف ایک عرضی سماعت کرتے ہوئے نوٹس جاری کیا ہے۔ یہ عرضی سابق بی ایس ایف جوان اور سماجوادی پارٹی کے امیدوار تیج بہادر کے ذریعہ داخل کی گئی تھی۔ قابل ذکر ہے کہ تیج بہادر کی نامزدگی بعد میں رَد کر دی گئی تھی۔

خبروں کے مطابق الٰہ آباد ہائی کورٹ نے جمعہ کو وارانسی لوک سبھا حلقہ سے انتخاب کو چیلنج پیش کرنے والی عرضی پر وزیر اعظم نریندر مودی کو نوٹس جاری کیا ہے اور چار ہفتے میں جواب داخل کرنے کے لیے کہا ہے۔

عرضی پر سینئر وکیل شیلندر نے بحث کرتے ہوئے کہا کہ عرضی دہندہ کا کہنا ہے کہ وارانسی پارلیمانی حلقہ سے انتخاب لڑنے کے لیے اس نے پرچہ نامزدگی داخل کیا تھا۔ پرچہ نامزدگی میں غلط جانکاری دینے کی بات کہہ کر اسے منسوخ کر دیا گیا۔ اسے اعتراضات پر جواب داخل کرنے کے لیے وقت نہیں دیا گیا۔ قانون کے مطابق اسے جواب دینے کے لیے 24 گھنٹے کا وقت ملنا چاہیے، جو نہیں دیا گیا۔ عرضی میں انتخابی افسران پر سیاسی دباؤ میں فیصلہ لینے کا الزام لگایا گیا ہے۔ اس کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔

تیج بہادر کی اس عرضی میں وارانسی سیٹ سے پی ایم مودی کے انتخاب کو رد کر وہاں نئے سرے سے الیکشن کرائے جانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ تیج بہادر نے اس کے لیے اپنا پرچہ نامزدگی خارج کیے جانے کو بنیاد بنایا ہے۔ انھوں نے الزام لگایا ہے کہ ان کا پرچہ پی ایم مودی کے دباؤ میں خارج کیا گیا ہے۔ عرضی میں اس کے ساتھ ہی پی ایم اور بی جے پی امیدوار رہے نریندر مودی کے پرچہ نامزدگی میں فیملی کی تفصیلات سمیت کئی کالم خالی چھوڑے جانے کو بھی چیلنج پیش کیا گیا ہے۔

Published: 20 Jul 2019, 10:10 AM