اب ’ڈی جے‘ بجایا تو ہوگی 5 سال قید اور ایک لاکھ جرمانہ کی سزا، الٰہ آباد ہائی کورٹ کا حکم

عدالت نے کہا کہ بچوں، بزرگوں اور اسپتالوں میں داخل مریضوں کی صحت کے لیے صوتی آلودگی خطرناک ہے۔ صوتی آلودگی کنٹرول قانون کی خلاف ورزی شہریوں کے بنیادی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

الٰہ آباد ہائی کورٹ نے صوتی آلودگی کو روکنے کے لیے ایک بڑا فیصلہ سنایا ہے۔ ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ ڈی جے (ڈھول باجہ) بجانے پر پوری طرح سے پابندی لگائی جائے۔ اس حکم کی خلاف ورزی کرنے کی صورت میں 5 سال کی جیل اور ایک لاکھ کا جرمانہ لگایا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی عدالت نے کہا کہ اگر ڈی جے بجانے کی شکایت کہیں سے ملتی ہے تو اس علاقے کے تھانہ انچارج کو اس سلسلے میں جواب دینا ہوگا۔ یہ حکم جسٹس پی کے ایس بگھیل اور جسٹس پنکج بھاٹیا کی بنچ نے ہاشم پور پریاگ راج باشندہ سشیل چندر شریواستو کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے صادر کیا۔

عدالت نے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ بچوں، بزرگوں اور اسپتالوں میں داخل مریضوں کی صحت کے لیے صوتی آلودگی خطرناک ہے۔ صوتی آلودگی کنٹرول قانون کی خلاف ورزی شہریوں کے بنیادی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے سبھی ضلع مجسٹریٹ کو اس سلسلے میں ٹیم بنا کر صوتی آلودگی کی نگرانی کرنے اور قصورواروں کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت بھی دی۔

عدالت نے اس پورے معاملے پر غور کرنے کے بعد کہا کہ سبھی مذہبی تہواروں سے پہلے ضلع مجسٹریٹ اور ایس ایس پی میٹنگ کر اس قانون پر عمل کو یقینی بنائیں۔ اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کو 5 سال تک کی قید اور ایک لاکھ روپے تک جرمانہ لگایا جا سکتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ صوتی آلودگی کنٹرول قانون کے تحت جرم کی ایف آئی آر درج کی جائے۔

عرضی دہندہ کا کہنا تھا کہ ضلع انتظامیہ نے ہاشم پور روڈ پر ایل سی ڈی لگایا ہے جو صبح 4 بجے سے نصف رات تک بجتا رہتا ہے۔ میری ماں 85 سال کی بزرگ ہیں۔ آس پاس کئی اسپتال ہیں۔ شور سے لوگوں اور مریضوں کو پریشانی ہو رہی ہے۔ عرضی میں صوتی آلودگی قانون پر سختی کے ساتھ عمل کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

Published: 21 Aug 2019, 7:10 PM