الہ آباد: بارش اور سردی کے باوجود سی اے اے مخالف احتجاج چھٹے روز بھی جاری

الہ آباد میں روشن باغ علاقہ کے منصور علی پارک میں جمعہ کو لگاتار چھٹے دن بھی سی اے اے، این آر سی مخالف احتجاج جاری رہا، رک رک کر ہو رہی بارش اور ٹھنڈ بھی مظاہرین کے حوصلوں کو پست نہ کرسکی

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

الہ آباد: اترپردیش کے ضلع الہ آباد (پریاگ راج) کے روشن باغ علاقے کے منصور علی پارک میں شہریت (ترمیمی) قانون (سی اے اے)، این آر سی اور این پی آر کے خلاف احتجاج جمعہ کو لگاتار چھٹے دن بھی جاری رہا۔ رک رک کر ہو رہی بارش اور ٹھنڈ بھی مظاہرین کے حوصلوں کو پست نہ کرسکی۔

گذشتہ اتوار کو این آر سی،این پی آر اور سی اے اے کے خلاف منصور علی پارک میں محض دس خواتین کے ذریعہ شروع ہونے والے غیر معینہ احتجاج نے دیکھتے ہی دیکھتے بڑا شکل اختیار کرلیا ۔آج بارش کے درمیان بھی ہزاروں کی تعداد میں خواتین،طلبہ وطالبات، بزرگ و نوجوان اپنے حق کی لڑائی میں شدید ٹھنڈ کو شکست فاش دیتے ہوئے برسراحتجاج رہے۔جن میں خواتین کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

جمعہ کے پیش نظر کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقعہ سے نپٹنے کے لئے پارک کے چاروں طرف کثیر تعداد میں پی اے سی اور پولیس اہلکار کو تعینات کیا گیا ہے۔ نماز کے وقت پولیس کے اعلی افسران بھی موقع پر موجودرہے۔ خواتین پولیس کے پارک کے اندر داخلے کو لےکر خواتین پولیس اور خاتون مظاہرین کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔ابھی تک دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے الزام میں 200 سے زیادہ افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی جا چکی ہے۔ باوجود اس کے احتجاج کرنے والوں کے حوصلے بلند ہیں۔

سی اے اے کے خلاف سراپا احتجاج خواتین کے مطابق’’ ہم ہندوستانی ہیں اور کسی بھی گیدڑبھبکی سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ سی اے اے اور این آر سی ملک کو جوڑنے والا نہیں بلکہ توڑنے والا ہے۔ ملک کو اس وقت متعدد دیگر مسائل درپیش ہیں۔حکومت کو پہلے انہیں حل کرنا چاہئے۔مہنگائی،جرائم پر کنٹرول،بے روزگاری کے مسائل کو حل کرنا چاہئے۔ملک کی آبادی میں ویسے اضافہ ہورہا ہے اس میں مزید لوگوں کو تحفظ دے کر اپنے ہی لوگوں کے ساتھ دھوکہ دھڑی کی جارہی ہے۔

الہ آباد یونیورسٹی کی طالبہ نہا یادو نے کہا کہ’’ ملک کے آئین نے سب کو برابری کا درجہ دیا ہے۔ہم اپنے ہندوستانی مسلم بھائی اور بہنوں کے ساتھ کندھے سےکندھا ملا کر کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔مرکزی حکومت کو این آر سی ،این پی آر اور سی اے اے کو واپس لینا ہوگا۔

سید محمد عسکری نے بتایا کہ مظاہرین کو حمایت دینے کے لئے دوسری ریاستوں سے بھی لوگ جائے احتجاج پر پہنچ رہے ہیں۔ سماج وادی پارٹی،کانگریس، عام آدمی پارٹی،مجلس اتحاد المسلمین سمیت مختلف اپوزیش پارٹیوں کے سیاسی لیڈران بھی منصور علی پارکت میں چل رہے احتجاجی مظاہرے میں شرکت کرے لئے پہنچ رہے ہیں۔

سی اے اے کے خلاف جاری اس احتجاج کو کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ کی خاص توجہ حاصل ہے اور مختلف کالجز کے کثیر تعداد میں طلبہ و طالبات یومیہ کی بنیاد پر یہاں پہنچ رہے ہیں۔مختلف جگہوں سے آنے والے طلبہ و طالبات اپنے چہرے و ناک پر ترنگا پینٹ کرا کر ’’ہندوستان زندہ باد‘‘ کے نعرے لگاتے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہوئے احتجاجی مظاہروں کے دوران اترپردیش میں سب سے زیادہ تشدد کے واقعات پیش آئے تھے جن میں تقریبا 23 مظاہرین کے ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 1100 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ریاستی حکومت کی ہدایت پر مختلف اضلاع کی انتظامیہ نے مظاہرین کے خلافسرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں ریکوری نوٹس بھی جاری کیا ہے۔

مظاہرے کے پاداش میں راتوں رات پولیس کی جانب سےگھروں پر دبش دینے اور ریکوری نوٹس جاری ہونے کی وجہ سے یو پی میں خوف کی لہر سی دوڑ گئی تھی۔لیکن شاہین باغ میں جاری احتجاج سے رغبت لیتے ہوئےگذشتہ اتوار کو کچھ خواتین اس قانون کے خلاف احتجاج کے لئے اکٹھا ہوئیں اور ان سے حوصلہ پاکر دیگر افراد بھی اکٹھا ہونا شروع ہوگئے۔اس کے بعد سے آج چھٹے دن بھی احتجاج جاری ہے۔اور بھاری تعداد میں مردوخواتین وہاں پہنچ کر اپنا احتجاج درج کرارہے ہیں۔