’حج ہیکاتھون‘ میں سعودی خواتین ٹیم کو 1.83 کروڑروپے کا انعام

مقابلہ میں کل 9 ٹیموں نے حصہ لیا تھا اور سبھی نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ جواں سال سعودی خواتین ٹیم کے ذریعہ تیارکردہ ایپ ’ترجمان‘ کو اس مقابلہ میں فاتح قرار دیا گیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

حج کے دوران بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لئے سعودی عرب میں ایک مقابلہ ’حج ہیکاتھون‘ کے نام سے منعقد کیا گیا جس میں ہزاروں سافٹ ویئر کے ماہرین نے حصہ لیا اور عازمین حج کے لئے بہترین موبائل ایپلیکیشنز (ایپ) کو پیش کیا۔ جدہ میں منعقد اس مقابلہ میں سعودی خواتین ٹیم کو فاتح قرار دیا گیا اور انعام کے طور پر 10 لاکھ سعودی ریال (تقریباً 1.83 کروڑروپے) فراہم کئے گئے۔

’حج ہیکاتھون ‘ کا مقصد سعودی عرب آنے والے عازمین کے لئے بہتر سے بہتر ایپ بناکر دینا تھا لہذا اس میں شامل ٹیموں نے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ایپز پیش کر کے اپنے جوہر دکھائے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب میں حج کے دوران تقریباً 20 لاکھ عازمین جمع ہوتے ہیں جبکہ عمرہ کا سلسلہ سال بھر جاری رہتا ہے اور اس دوران عازمین کو مختلف سہولیات درکار ہوتی ہیں۔

مقابلہ میں کل 9 ٹیموں نے حصہ لیا تھا اور سبھی نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ جواں سال سعودی خواتین کی ٹیم کے تیارکردہ نظام ’ترجمان ‘ کو اس مقابلہ میں فاتح قرار دیا گیا۔ مصر کی تمام مرد ارکان پر مشتمل ٹیم کودوسرا مقام حاصل ہوا ۔ اس ٹیم نے’حج والیٹ‘ تیار کیا ہے۔ جبکہ تیسرے مقام پر الجیریا کی ٹیم رہی جس نے ’روا‘ (ویژن) نامی ایپ تیار کیا ہے ۔ دوسرے مقام پر رہنے والی ٹیم کو 5 لاکھ سعودی ریال جبکہ تیسرے مقام پر آنے والی ٹیم کو 3.5 لاکھ ریال بطور انعام دیا گیا ۔ علاوہ ازیں حج کے لئے ای-کیمپ کے منیجمنٹ کے لئے بنائی گئی ایپ ’آئی-007‘ بنانے والی ٹیم کو خصوصی انعام کے طور پر 1.5 لاکھ سعودی ریال دیئے گئے۔

مقابلہ کے جیوری میں معروف امریکی کمپنی ایپل کے شریک بانی اسٹیو ووزنیک سمیت 8 ممبران شامل تھے ۔

’حج ہیکاتھون‘ کا انعقاد کرنے والے سعود القحطانی نے فاتح ٹیم کا فوٹو ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ’’ایک سعودی شہری ہونے کے ناطے اس عظیم ملک کی بیٹیوں کی اس کامیابی پر جو خوشی مجھے مل رہی ہے میں اسے چھپا نہیں پا رہا ہوں۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ سعودی جواں سال خواتین ٹیم کی جیت سعودی خواتین کے حق میں تفویض واختیارات کے عمل کے سلسلہ میں کامیابی کا آئینہ دار ہے۔

حج ہیکاتھون میں شامل ٹیموں نے ہجومی نظام، غذا، صحت، فنانس، ٹریفک کنٹرول، سیاحت، ہاؤسنگ، مواصلات اور ویسٹ منیجمنٹ جیسے موضوعات پر اپنے اپنے نظام پیش کئے۔

مقابلہ میں فتحیاب ہونے والی ایپ ’ترجمان ‘کیو آر کوڈ کے ذریعہ بغیر انٹرنیٹ کے انسٹال کی جا سکتی ہے اور انسٹال کے لئے عازمین اپنی زبان کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ دوسرے مقام پر آنے والی ’حج والیٹ‘ نامی ایپ انسٹال ہونے کے بعد عازمین کے فون کو پیسوں کے بٹوے میں تبدیل کر دیگی۔ پیمنٹ کرنے یا کچھ خریدنے کے لئے اس ایپ میں کریڈٹ کارڈ کا لنک استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تیسرے مقام پر آنے والی ایپ ’ویژن‘ ایک خاندان کے عازمین حج کے رابطہ کے لئے بنائی گئی ہے۔ اس کے ذریعہ اپنے سامان پر نظر رکھی جاسکتی ہے اور اپنے ساتھیوں کی لوکیشن مع تصاویر کے دیکھی جا سکتی ہے۔

جدہ کے بین الاقوامی ایکزیبیشن اور کنونشن سنٹر میں منعقد یہ مقابلہ مشرق وسطی کا سب سے بڑا مقابلہ تھا۔ اس میں خلیج اور دنیا بھر کے کل 2950 سافٹ ویئر ڈیولپرز نے حصہ لے کر گنیز بک کا عالمی ریکارڈ بھی قائم کر دیا۔

جیوری کے سربراہ ایپل کے شریک بانی ووزنیک نے اس مقابلہ کو ایک کامیاب مقابلہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مقابلہ سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی شہریوں میں پروگرامنگ اور کمپیوٹر ٹیکنالوجی میں کتنی دلچسپی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب جلد ہی خطہ کا ٹیکنالوجی کا مرکز بن کر ابھر سکتا ہے۔

Published: 5 Aug 2018, 7:33 PM