علی گڑھ: لاک ڈاؤن میں روزگار ختم ہونے سے 10 دن تک بھوکا رہا خاندان، جسم ڈھانچوں میں تبدیل!

گُڈّی نے بتایا کہ بڑا بیٹا مزدوری کر کے گھر والوں کا پیٹ پال رہا تھا، لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے اس کی ملازمت بھی چلی گئی۔ روزگار نہ ہونے کی وجہ سے راشن پانی کی قلت تھی۔

علامتی تصویر / Getty Images
علامتی تصویر / Getty Images
user

قومی آوازبیورو

علی گڑھ: ہندوستان میں یوں تو کورونا کی دوسری لہر سے ہر خاص و عام کو ناقابل فراموش تلخ تجربہ سے دو چار کرایا ہے، مگر کچھ غربت کے ماروں کے لئے لاک ڈاؤن کے دوران بھوک قیامت بن کر ٹوٹی ہے۔ علی گڑھ کا ایک خاندان بھی ایسے کرب سے گزرا ہے کہ ان کی آپ بیتی سننے والے کو جذباتی کر دیتی ہے۔ کورونا کے بحران نے اس خاندان کا روزگار چھین لیا اور آٹھ دس دن تک 6 افراد دانے دانے کو محتاج ہو گئے۔ بھوک سے تڑپتے کنبہ کی اطلاع ایک شخص نے ایک تنظیم کو دی تو ان سب کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ بھوک سے یہ کنبہ اس قدر نڈھال تھا کہ کئی کا جسم تو ہڈیوں کے ڈھانچے میں تبدیل ہو چکا تھا۔

روزنامہ ہندوستان کی رپورٹ کے مطابق یہ معاملہ علی گڑھ کے نگلہ مندر علاقہ میں پیش آیا جہاں ایک خاندان گزشتہ آٹھ دس دنوں سے بھوکا مر رہا تھا۔ گونڈا کے رہائشی سنجیو کو کنبہ کی کربناک صورت حال کا علم ہوا تو انہوں نے شہر کی ہینڈس فار ہیلپ تنظیم سے مدد طلب کی۔ تنظیم سے وابستہ افراد نے جب موقع پر پہنچ کر ان کا حال دیکھا تو وہ حیران رہ گئے۔ بچے بھوک سے بلک رہے تھے اور ان کے جسم ہڈیوں کے ڈھانچوں میں تبدیل ہو گئے تھے۔


تنظیم کے سربراہ ڈاکٹر سنیل نے بتایا کہ گڈی بیوہ بجندر کمار کے خاندان کی مدد کرنے کے لئے ان کے پاس کال آئی تھی۔ موقع پر ٹیم پہنچی تو بچوں کی حالت بہت زیادہ بری تھی۔ جنہیں فوری طور پر اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ ڈاکٹر تمام بچوں کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔ تنظیم کی جانب سے کپڑے، کھانے وغیرہ کا انتظام کیا گیا ہے۔ تنظیم کے عہدیداران متاثرہ خاندان کے ساتھ اسپتال میں موجود ہیں۔

گُڈّی نے بتایا کہ وہ ضلع کی ایک ایکسپورٹ کمپنی میں ملازمت کرتی تھی اور کورونا کی پہلی لہر میں لگے لاک ڈاؤن کی وجہ سے ان کا کام وہاں سے چھین گیا۔ اس کی وجہ سے کنبہ مالی بحران سے دو چار ہونے لگا۔ بڑا بیٹا مزدوری کر کے گھر والوں کا پیٹ پال رہا تھا، لیکن دوسرے لاک ڈاؤن میں اس کی ملازمت بھی چلی گئی۔ روزگار نہ ہونے کی وجہ سے راشن پانی کی قلت تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے پانچ بچوں نے 15 دن سے کچھ نہیں کھایا۔ گڈّی کا کہنا ہے کہ ان کے پاس راشن کارڈ نہیں ہے اور نا ہی آدھار کارڈ ہے۔


ادھر، ایس ڈی ایم رنجیت سنگھ نے کہا کہ کسی خاندان کا کئی دنوں تک بھوکا رہنے کا واقعہ ان کے علم میں نہیں تھا۔ اگر ایسا کوئی خاندان ہے تو اس کی ہر ممکن امداد کی جائے گی۔ ضلع استال سے رابطہ قائم کیا جا رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔