علی گڑھ: زہریلی شراب پینے سے اموات کی تعداد 18 ہوئی، 17 کی حالت نازک، ایکسائز افسر معطل

معطل ہونے والوں میں ضلع ایکسائز آفیسر دھیرج شرما، انسپکٹر راجیش یادو، ہیڈ کانسٹیبل اشوک کمار، انسپکٹر چندر پرکاش یادو اور کانسٹیبل رامراج رانا شامل ہیں۔ اس معاملہ میں پولیس نے تین مقدمات درج کیے ہیں۔

تصویر بشکریہ این ڈی ٹی وی
تصویر بشکریہ این ڈی ٹی وی
user

قومی آوازبیورو

علی گڑھ: اتر پردیش کے علی گڑھ شہر میں زہریلی شراب پینے سے اب تک 18 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 17 افراد کی حالت ابھی نازک بنی ہوئی ہے۔ معاملہ میں کارروائی کرتے ہوئے انتظامیہ نے پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے لاپروائی برتنے کے الزام میں ڈسٹرکٹ ایکسائز آفیسر سمیت پانچ ملازمین کو معطل کر دیا گیا ہے۔

معطل ہونے والوں میں ضلع ایکسائز آفیسر دھیرج شرما کے علاوہ ایکسائز انسپکٹر راجیش یادو، ہیڈ کانسٹیبل اشوک کمار، انسپکٹر چندر پرکاش یادو اور کانسٹیبل رامراج رانا شامل ہیں۔ اس معاملہ میں پولیس نے تین مقدمات درج کیے ہیں۔


حکومت نے زہریلی شراب سے پیش آئے اس سانحہ کی مجسٹریٹ کے ذریعے تفتیش کرانے کے احکامات صادر کیے ہیں۔ ملزمان پر گینگسٹر ایکٹ اور این ایس اے کے تحت کارروائی کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔ علی گڑھ پولیس نے تاحال 5 افراد کو گرفتار کیا ہے، جبکہ دو ملزمان فرار چل رہے ہیں۔ مفرور ملزمان پر 50-50 ہزار روپے کا انعام رکھا گیا ہے۔ دونوں مفرور ملزمان ٹھیکہ آپریٹر اور سیلس مین ہیں۔ سانحہ میں ملزم انیل چودھری کو پرانا شراب کا اسمگلر قرار دیا جا رہا ہے، جسے سیاسی پشت پناہی بھی حاصل ہے۔

خیال رہے کہ علی گڑھ میں تین مقامات پر زہریلی شراب پینے سے جمعہ کی صبح 8 افراد ہلاک ہو گئے تھے اور بعد میں اموات کی تعداد بڑھ کر 15 ہو گئی تھی۔ اب یہ تعداد 18 تک پہنچ گئی ہے۔ ضلع کے ہیبت پور، چھیرت اور انڈلا اور پڑوس کے گاؤں میں زہریلی شراب سے اموات کی خبر آنے کے بعد انتظامیہ بیدار ہوئی۔ ضلع مجسٹریٹ نے اہل خانہ کو پانچ پانچ لاکھ روپے کی مالی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔