’القاضی اُردو اکیڈمی‘ کی جانب سے طلبا و طالبات کے لیے اُردو تحریری مقابلہ کا انعقاد
اُردو زبان کے محسن ڈاکٹر سید احمد خاں نے کہا کہ نئی نسل کو اُردو زبان سکھانے کی سمت میں اُردو تحریری مقابلے کافی موثر ثابت ہوتے ہیں۔ جب بچے کچھ نیا سیکھتے ہیں تو ان میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔

نئی دہلی/مظفرنگر: مظفر نگر کے گاؤں کلیان پور میں طلباء و طالبات کے درمیان اُردو زبان کو پڑھنے، لکھنے اور بولنے کا ذوق و شوق پیدا کرنے کی غرض سے یک روزہ اُردو تحریری مقابلہ منعقد کیا گیا۔ اس تحریری مقابلہ میں 10 ایسے طلباء و طالبات کو قیمتی انعامات سے نوازا گیا جنہوں نے بہترین کار گردگی کا مظاہرہ کیا۔
یہ مقابلہ عالمی یوم اردو منتظمہ کمیٹی، نئی دہلی اور القاضی اردو اکیڈمی کی جانب سے منعقد ہوا تھا۔ اس تقریب میں مہمان خصوصی کے طورپر سینئر صحافی معصوم مرادآبادی، مہمان ذی وقار کے طورپر ڈاکٹر الیاس مظہر اور سوشل میڈیا کی معروف شخصیت سہیل نمبردار نے شرکت کی۔ تقریب کی صدارت اُردو زبان کے محسن ڈاکٹر سید احمد خاں نے کی۔
ڈاکٹر سید احمد خاں نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہا کہ ہمارا مقصد اردو تعلیم کو عام کرنا ہے، جو نئی نسل اس سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی نسل کو اُردو زبان سکھانے کی سمت میں اُردو تحریری مقابلے کافی موثر ثابت ہوتے ہیں۔ ایسا اس لیے کیونکہ جب بچے کچھ نیا سیکھتے ہیں تو ان میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے، اور جب ان کی چھوٹی سی کوشش کے بدلے ان کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے تو ان میں نئی توانائی بھی پیدا ہوتی ہے۔ ڈاکٹر سید احمد خاں نے مزید کہا کہ مقابلہ میں بچیوں کی بہترین کارکردگی خوش آئند بات ہے۔ اس سے مادری زبان اردو کے فروغ میں بہت مدد ملے گی۔

اس موقع پر معصوم مراد آبادی نے ہونہار اردو طلباء کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا کہ ’’جو بچے اردو تعلیم سے آراستہ ہوتے ہیں، ان کے لب و لہجے اور گفتگو میں شائستگی پیدا ہو جاتی ہے اور وہ اپنی تاریخ اور تہذیب سے بھی واقف ہو جاتے ہیں۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو تعلیم کو گھر گھر پہنچایا جائے اور جو طلباء و طالبات بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کریں ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔‘‘
القاضی اردو اکیڈمی کی چیئرپرسن ایڈووکیٹ شاہ جبیں قاضی نے اس موقع پر ہونہار طلباء و طالبات کے لیے بہترین تحفے اور شیلڈ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا بنیادی مقصد اُردو سیکھنے والے طلباء و طالبات کی حوصلہ افزائی کرنا ہے تاکہ اس سے دیگر طلباء بھی تحریک حاصل کریں۔ اس کام کے لیے ان دور دراز قصبوں اور گاوؤں کا انتخاب کیا گیا ہے جہاں عام طور پر فلاحی تنظیمیں نہیں پہنچ پاتیں۔

جن ہونہار طلباء و طالبات کو انعام و اکرام سے نوازا گیا ان میں نکہت پروین، چاہت چودھری، صائمہ بیگم، سہانی بیگم، اقراء چودھری، سمیہ، ثناء، من تشا اور ذیشان شامل ہیں۔ یہ تقریب نواب میموریل پبلک اسکول، کلیان پور کے تعاون سے منعقد ہوئی۔ پروگرام کو کامیاب بنانے میں خوشی، حنا، ادیبہ کے علاوہ عمیق چودھری، مومنہ چودھری، عرشی، نورین، انعم چودھری وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔