اخلاق قتل مقدمہ: سورج پور عدالت میں اب روزانہ سماعت کا آغاز، فیصلے کی راہ ہموار

اخلاق قتل مقدمہ میں سورج پور عدالت نے روزانہ سماعت کا حکم دیا ہے۔ حکومت کی مقدمہ ختم کرنے کی درخواست مسترد ہو چکی ہے۔ گواہوں کے بیانات اور شواہد کی جانچ تیز ہوگی، جس سے جلد فیصلے کی امید ہے

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

گریٹر نوئیڈا کے دادری علاقے کے بساہڑہ گاؤں میں پیش آئے اخلاق قتل مقدمہ میں عدالتی کارروائی نے ایک اہم مرحلے میں قدم رکھ لیا ہے۔ سورج پور کی عدالت نے اس معاملے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے اب روزانہ بنیاد پر سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے برسوں سے زیر التوا مقدمے میں تیزی آنے کی امید ہے۔ عدالت کے اس فیصلے کو انصاف کی سمت ایک نمایاں پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

گزشتہ سماعت کے دوران ریاستی حکومت کی جانب سے ملزمین کے خلاف مقدمہ ختم کرنے کی درخواست عدالت میں پیش کی گئی تھی، تاہم سورج پور عدالت نے اس درخواست کو مسترد کر دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ درخواست نہ صرف بے بنیاد ہے بلکہ مقدمے کی نوعیت کے پیش نظر غیر اہم بھی ہے۔ عدالت کے مطابق، ایسے حساس اور سنگین معاملے میں تیز رفتار سماعت ناگزیر ہے تاکہ انصاف میں غیر ضروری تاخیر نہ ہو۔

عدالتی فیصلے کے بعد اب روزانہ کی بنیاد پر گواہوں کے بیانات اور شواہد کی جانچ کی جائے گی۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ مقدمے کے تمام اہم گواہوں کے بیانات پہلے ہی درج ہو چکے ہیں اور روزانہ سماعت سے جلد حتمی فیصلہ آنے کی توقع ہے۔ دوسری جانب، وکیل دفاع نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ تمام گواہوں سے مکمل جرح کریں گے تاکہ ملزمین کا دفاع مؤثر انداز میں پیش کیا جا سکے۔

یہ واقعہ 28 ستمبر 2015 کو پیش آیا تھا، جب بساہڑہ گاؤں میں گائے کا گوشت رکھنے کے شبہ میں ایک مشتعل ہجوم نے اخلاق کو بے رحمی سے پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا تھا۔ اس واقعے نے پورے ملک میں شدید ردعمل پیدا کیا تھا اور سماجی ہم آہنگی کے حوالے سے گہرے سوالات کھڑے کر دیے تھے۔ سیاسی سطح پر بھی یہ معاملہ طویل عرصے تک بحث و تنازع کا مرکز بنا رہا۔


تحقیقات کے ابتدائی مرحلے میں 10 ملزمین کے نام سامنے آئے تھے، بعد ازاں گواہوں کے مزید بیانات کے ساتھ مزید نام شامل کیے گئے۔ اخلاق کی بیٹی شائستہ نے 26 نومبر 2015 کو اپنے بیان میں 16 افراد کا ذکر کیا تھا، جبکہ 5 دسمبر 2015 کو دانش نے 19 افراد کے نام لیے۔ تفتیشی افسر نے 22 دسمبر 2015 کو عدالت میں 18 ملزمین کے خلاف چارج شیٹ داخل کی تھی۔ فی الوقت تمام ملزمین ضمانت پر ہیں۔

عدالت نے اس کے ساتھ گواہوں کی سلامتی کو بھی سنجیدگی سے لیتے ہوئے پولیس کمشنر اور ڈی سی پی گریٹر نوئیڈا کو ہدایت دی ہے کہ اگر کسی گواہ کو تحفظ کی ضرورت محسوس ہو تو فوری اور مناسب سکیورٹی فراہم کی جائے۔ عدالتی حلقوں کے مطابق روزانہ سماعت کے فیصلے سے اس مقدمے میں انجام تک پہنچنے کی رفتار میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔