امریکی ڈیل اور ٹرمپ کے دعوے پر اکھلیش یادو کا حملہ، حکومت سے وضاحت کا مطالبہ
سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بیان اور مبینہ تجارتی ڈیل پر مرکزی حکومت سے وضاحت طلب کی ہے، کہا کہ خودمختاری اور معاشی مفادات پر خاموشی تشویش ناک ہے

لکھنؤ: سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان اور امریکہ کے ساتھ تجارتی ڈیل کے معاملے پر مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے فوری وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی خاموشی سے شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں اور یہ معاملہ ملک کے وقار اور خودمختاری سے جڑا ہوا ہے۔
اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر امریکی صدر کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر اس دن کیا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کیا ڈیل نے منہ پر مہر لگا دی ہے؟ یا تو صاف طور پر بتایا جائے کہ حقائق کیا ہیں یا پھر بیرونی مداخلت کے دعوؤں کو واضح طور پر مسترد کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی سیاست نے کیا اب خودمختاری کو بھی گروی رکھ دیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت ملک کے اہم معاملات پر شفافیت سے کام نہیں لے رہی۔ ان کے مطابق اگر کسی بھی طرح کی تجارتی ڈیل میں زراعت، صنعت یا روزگار سے جڑے مفادات متاثر ہوتے ہیں تو اس کا خمیازہ عام شہریوں کو بھگتنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر نہ کھیتی ہوگی، نہ کارخانے چلیں گے اور نہ چھوٹی بڑی صنعتیں مضبوط رہیں گی تو نوجوانوں کو روزگار کہاں سے ملے گا اور ان کا مستقبل کیسے محفوظ ہوگا۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آپریشن سندور کے دوران ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے وقت ہندوستان کے گیارہ جیٹ طیارے گر گئے تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھاری ٹیرف کی دھمکی دے کر جنگ کو ٹالا گیا تھا اور حالات نہایت خطرناک ہو چکے تھے۔ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد ملک کی سیاست میں ہلچل تیز ہوگئی ہے اور اپوزیشن جماعتیں مرکزی حکومت سے جواب طلب کر رہی ہیں۔
اکھلیش یادو نے کہا کہ یہ معاملہ صرف سیاست کا نہیں بلکہ ملک کے احترام اور عوام کے حق جاننے سے متعلق ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مرکزی حکومت کھل کر اپنا موقف پیش کرے تاکہ کسی بھی طرح کی قیاس آرائیوں کا خاتمہ ہو سکے اور عوام کو سچائی معلوم ہو۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔