ایودھیا اسٹیشن کا حوالے دے کر قنوج ریلوے اسٹیشن کی ترقی پر اکھلیش یادو نے اٹھائے سوال

سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے ’ایکس‘ پرمرکزی وزیرریلوے کو ٹیگ کرتے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ’’ایودھیا میں جو ریلوے اسٹیشن کی دیوار گری تھی وہ کس ماڈل پر بنی تھی، بی جے پی کے’ کرپٹ ماڈل پر؟‘‘۔

اکھلیش یادو، تصویر یو این آئی
i
user

قومی آواز بیورو

حکومت کی جانب سے امرت بھارت اسٹیشن اسکیم کے تحت قنوج ریلوے اسٹیشن کو بڑے پیمانے پرترقی دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کی تیاریاں بھی شروع ہوگئی ہیں۔ اس سلسلے میں محکمہ ریلوے کا کہنا ہے کہ قنوج اسٹیشن کو گورکھپور جنکشن ریلوے اسٹیشن کی طرز پرتیار کیا جائے گا جہاں مسافروں کو بہتر اورعالمی معیار کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اس اعلان پر سیاسی ماحول بھی گرم ہوگیا ہے۔ اتر پردیش کے سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو نے مرکزی وزیر ریلوے اشونی وشنو کو سوشل میڈیا سائٹ’ ایکس‘ پر ٹیگ کرتے ہوئے کئی سوالات اٹھائے ہیں۔

سماجوادی پارٹی (ایس پی) کے سربراہ اکھلیش یادو نے ’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں ایودھیا اسٹیشن کا ذکر کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ’’ایودھیا میں جو ریلوے اسٹیشن کی دیوار گری تھی وہ کس ماڈل پر بنی تھی، بی جے پی کے’ کرپٹ ماڈل پر؟‘‘۔ اکھلیش یادو کے اس بیان پر حکمراں حلقے بے چین ہو اُٹھے ہیں۔ جس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ سماج وادی پارٹی اور بی جے پی کے درمیان لفظی جنگ تیز ہو گئی ہے۔


اکھلیش یادو نے ’ایکس‘ پر کی گئی اپنی پوسٹ میں وزیر ریلوے کو کچھ مشورہ بھی دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ’’ بنتے ہی گرجانے والی پانی ی ٹنکی تھوڑی دور بنایئے گا،چھت ایسی بنائیئے گا کہ نیچے چھتری لے کر نہ کھڑا ہونا پڑے، اپروچ روڈ کی پرت نہ اُکھڑے، لفٹ،ایسکلیٹر لگے تو چلے بھی، کمیشن خوری سے بچائیے گا، ویٹنگ ایریا سچ میں اچھا بنایئے گا۔ ٹرینوں کا کئی گھنٹوں تک اتا پتا نہیں رہتا ہے، پارکنگ کو اپنے بھاجپائی غنڈہ گردی ٹیکس سے بچا یئے گا‘‘۔

ایس پی صدر نے مزید کہا کہ کم از کم قنوج میں تو ایسے ٹوائلٹ بنایئے گا،چلایئے گا جو خوشبو والے ہوں۔ ٹھیکیدار یوپی کے ہی رکھیئے گا،جس سے وہ کہیں بھاگ نہ سکیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ امرت بھارت اسٹیشن اسکیم کے تحت ملک بھر میں کئی اسٹیشنوں کی تزئین و آرائش کی جارہی ہے۔ قنوج اسٹیشن کو بھی جدید سہولیات سے آراستہ کیا جائے گا۔


وہیں اکھلیش یادو کے بیان کے بعد یہ مسئلہ بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ ایک طرف حکومت قنوج اسٹیشن کو جدید بنانے کا دعویٰ کر رہی ہے وہیں اپوزیشن تعمیرات کے معیاراور شفافیت پر سوال اٹھا رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ قنوج ریلوے اسٹیشن پر ہونے والے مجوزہ ترقیاتی کام میں کس حد تک معیار پر دھیان دیا جاتا ہے اور وہ زمین پر کتنا مضبوط ہوتا ہے۔