جمہوریت کے تحفظ کے لیے بی جے پی کو اقتدار سے باہر کرنا ضروری: اکھلیش یادو

اکھلیش یادو نے بی جے پی اور سنگھ پریوار پر جمہوریت و آئین کو کمزور کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ملک اور ریاست کے مستقبل کے لیے بی جے پی کو اقتدار سے باہر کرنا ناگزیر ہے

<div class="paragraphs"><p>اکھلیش یادو / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

لکھنؤ: سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے بھارتیہ جنتا پارٹی اور سنگھ پریوار پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوریت اور آئین کی حفاظت کے لیے بی جے پی کو اقتدار سے باہر کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت بن چکی ہے۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ بوتھ سطح پر مضبوطی سے کام کریں اور ووٹر لسٹ کے عمل پر پوری چوکسی برتیں۔

سماج وادی پارٹی کے ریاستی دفتر میں بدھ کے روز مختلف اضلاع سے آئے کارکنوں اور رہنماؤں سے ملاقات کے دوران اکھلیش یادو نے مکر سنکرانتی کی مبارکباد بھی دی۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس اور بی جے پی سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ قوتیں جمہوری اداروں کو کمزور کرنے میں لگی ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق آئین اور جمہوریت کو بچانے کا واحد راستہ یہی ہے کہ بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کیا جائے۔

اکھلیش یادو نے بی جے پی رہنما کرن رجیجو کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ این ڈی اے کوئی سیاسی اتحاد نہیں بلکہ خاندانی اتحاد ہے، جس کا مقصد صرف اقتدار پر قابض رہنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی جھوٹے وعدوں اور غلط بیانی کے ذریعے عوام کو گمراہ کرتی ہے۔ دراندازوں کے مسئلے پر بی جے پی کے بیانیے کو انہوں نے بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ ووٹر لسٹ کی ایس آئی آر کارروائی میں ایک بھی درانداز سامنے نہیں آیا۔


انہوں نے بی جے پی پر بدعنوانی اور سرکاری خزانے کی لوٹ کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ریاست کی عوام پریشان اور دکھی ہے۔ انہوں نے کارکنوں سے کہا کہ ووٹ بچانا اور اپنا بوتھ جیتنا ہر سماج وادی کارکن کی ذمہ داری ہے۔ فارم-6 کے ذریعے رہ گئے ووٹروں کے نام فہرست میں شامل کرانے پر بھی زور دیا اور خبردار کیا کہ 2027 میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

اکھلیش یادو نے دعویٰ کیا کہ عوام کا اعتماد سماج وادی پارٹی پر ہے اور تمام طبقات کو پارٹی سے جوڑنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے رویے سے عوام کو یقین دلانا ہوگا کہ حقیقی ترقی سماج وادی حکومت کے دور میں ہی ہوئی۔ ان کے مطابق بی جے پی نے اتر پردیش کو بدحال کر دیا ہے، ہر شعبے میں بدعنوانی پھیلی ہوئی ہے، خواتین کے خلاف جرائم اور سائبر کرائم میں اضافہ ہوا ہے اور مجرم بے خوف ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت نے اداروں کو کمزور کر دیا ہے اور لکھنؤ کے بڑے اسپتالوں اور میڈیکل کالجوں میں بھی معیاری علاج دستیاب نہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سماج وادی حکومت کے دور میں غریبوں کا علاج مفت تھا اور لوہیا انسٹی ٹیوٹ، سیفئی میڈیکل کالج، کینسر انسٹی ٹیوٹ، کے جی ایم یو اور پی جی آئی میں سہولیات کو وسعت دی گئی تھی۔