اعظم خان کے خلاف ای ڈی کی کارروائی پر اکھلیش یا برہم، کہا- ’اپوزیشن رہنماؤں کو نشانہ بنا رہی حکومت‘

اکھلیش یادو نے اعظم خان سے متعلق ای ڈی کی کارروائی پر بی جے پی حکومت کو ہدف تنقید بنایا۔ انہوں نے سخت لہجہ میں کہا کہ حکومت اپوزیشن کو دبانے کے لیے ای ڈی کا استعمال کر رہی ہے

<div class="paragraphs"><p>اکھلیش یادو&nbsp;اور اعظم خان کی فائل تصویر /&nbsp; آئی&nbsp;اے این ایس</p></div>
i

لکھنؤ: سماجوادی پارٹی (ایس پی) کے قومی صدر اور اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے پارٹی کے سینئر رہنما اعظم خان سے وابستہ مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی اور ٹرسٹ کے خلاف انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی کارروائی پر بی جے پی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اپوزیشن رہنماؤں اور اس کے مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے ای ڈی کی کارروائی کرا رہی ہے، جبکہ بدعنوانی کے سنگین الزامات سے متعلق معاملات میں کارروائی نہیں کی جا رہی۔

اکھلیش یادو نے بدھ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ تعلیم، اساتذہ اور طلبہ مخالف اور اسکول بند کرانے والے بی جے پی رہنما یونیورسٹی بنانے والوں کے خلاف ای ڈی کی چھاپہ ماری کرا رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ کارروائی بی جے پی کے باقی رہ گئے فرقہ وارانہ اور تنگ نظری رکھنے والے حامیوں کو مطمئن کرنے کی کوشش ہے۔

ایس پی صدر نے اپنی پوسٹ میں متعدد معاملات اور بے ضابطگیوں کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت سے سوال کیا کہ ان معاملات میں کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے رام مندر کے چڑھاوے سے متعلق معاملے، اقتدار کے تحفظ میں جرائم کرنے والوں، کوڈین کف سیرپ کی اسمگلنگ اور بدعنوانی کے مختلف معاملات کا ذکر کیا۔


اکھلیش یادو نے اتر پردیش میں بنیادی ڈھانچے سے متعلق منصوبوں پر بھی حکومت پر حملہ بولا۔ انہوں نے بی جے پی حکومت کے دور میں تعمیر کیے گئے بندیل کھنڈ ایکسپریس وے کی خستہ حالی، پوروانچل ایکسپریس وے پر سفر کے دوران ہچکولوں، کانپور-لکھنؤ ایکسپریس وے پر گڑھوں، گرین کوریڈور سے متعلق خامیوں، خراب سڑکوں، پلوں کے گرنے اور پانی کی ٹنکیوں کے منہدم ہونے جیسے واقعات کا حوالہ دیا۔

انہوں نے تعمیر شدہ عمارتوں کی چھتوں سے پانی ٹپکنے اور اسٹیشن کی دیوار گرنے جیسے واقعات کا بھی ذکر کیا۔ اکھلیش نے دوسرے ریاستوں میں بدعنوانی کے الزام میں پکڑے جانے والے پولیس اہلکاروں کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت سے جواب طلب کیا۔

ایس پی سربراہ نے مہاکمبھ میں بے ضابطگیوں اور اسمارٹ سٹی منصوبوں کے نام پر بڑے پیمانے کی بدعنوانی کا بھی الزام لگایا۔ انہوں نے ایسے بی جے پی عوامی نمائندوں پر بھی سوال اٹھائے جن پر غیر منظور شدہ زمین پر غیر قانونی تعمیرات کے الزامات ہیں۔

اکھلیش یادو نے الزام لگایا کہ افسران بدسلوکی اور غلط بیانی کے معاملات پر تشہیر کی تہہ چڑھا کر طور پر 7 ہزار کروڑ روپے میں حصہ بانٹ رہے ہیں۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب ای ڈی نے اعظم خان، مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی اور محمد علی جوہر ٹرسٹ سے متعلق متعدد مقامات پر چھاپہ ماری کی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔