بیروزگار ’وکاس‘ پوچھ رہا ہے، کہیں کام ملے گا! اکھلیش کا مودی پر حملہ

اکھلیش یادو نے ٹوئٹ کیا، ’’بے روزگاری 45 برس میں سب سے زیادہ ہے، بی ایس این ایل کے ملازمین، منریگاکے تحت مزدوری کرنے والوں اور گجرات میں اسٹیچو آف یونیٹی بنانے والوں کو بھی تنخواہ نہیں ملی ہے۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

لکھنو: سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے صدر اور اترپردیش کے سابق وزیراعلی اکھیلیش یادو نے جمعرات کو ٹوئٹ کرکے وزیراعظم مودی کو نشانہ بنایا۔

اکھیلیش یادو نے اپنے ٹوئٹ میں نریندر مودی کا نام لئے بغیر لکھا اب ملک کو پرچار منتری نہیں نہیں نیا پردھان منتری چاہئے۔ ایس پی کے صدر نے ٹوئٹ میں یہ الزام بھی لگایا کہ بے روزگاری 45 برس میں سب سے زیادہ ہے، بھارت سنچار نگم لمیٹڈ (بی ایس این ایل) کے ملازمین، منریگاکے تحت مزدوری کرنے والوں اور گجرات میں اسٹیچو آف یونیٹی بنانے والوں کو بھی تنخواہ نہیں ملی ہے۔

ایس پی کے صدر ٹوئٹ کی جھڑی لگاتے ہوئے مودی حکومت سے کئی سوالات پوچھے ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ بے روزگار ’وکاس‘ پوچھ رہا ہے، کہیں کئی روزگار ملے گا؟ کھیت مزدور ’وکاس‘ پو چھ رہا ہے کب محنت کا پیسہ ملے گا؟ کاروباری ’وکاس ‘ پوچھ رہا ہے ، اس کاغذی حکومت سے چھٹکارا کب ملے گا ؟

ادھر مودی حکومت نے لوک سبھا انتخابات سے قبل ایک مرتبہ پھر ملک میں روزگار سے جڑے سوال کو دبانے کی کوشش شروع کر دیا ہے۔ مرکزی حکومت کی مائیکرو یونٹس ڈیولپمنٹ اینڈ ریفائنری ایجنسی (مدرا) اسکیم کے تحت کتنی نوکریاں پیدا کی گئیں، اس سے جڑے لیبر بیورو کے سروے کے اعداد فی الحال عوامی نہیں کئے جائیں گے۔ اسے دو مہینوں کے لئے موخر کر دیا گیا ہے۔

غور طلب ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے 2014 کے لوک سبھا انتخابت کے دوران وعدہ کیا تھا کہ اگر ان کی حکومت بنی تو ہر سال 2 کروڑ لوگوں کو روزگار دیا جائے گا۔ اب نئی حکومت کے لئے ایک مہینے کے اندار انتخابات ہونے ہیں۔ ایسے میں مودی حکومت کی طرف سے روزگار فراہم کرنے کے وعدے کو لے کر سوال اتھنے لگا ہے۔ مدرا کی رپورٹ سے پہلے سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکنامی (سی ایم آئی آئی) کی طرف سے جاری اعداد و شمار کے مطابق فروری 2019 میں بے روزگاری کی شرح 7.2 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ یہ ستمبر 2016 کے بعد کی بلند ترین شرح تھی، فروری 2018 میں بے روزگاری شرح 5.9 فیصد رہی تھی۔

Published: 14 Mar 2019, 8:10 PM