اکھلیش کی چھٹیوں سے واپسی، پارٹی سرگرمیوں میں تیزی متوقع

لوک سبھا انتخابات میں شکست فاش کے بعد متعدد مسائل سے گذر رہی سماج وادی پارٹی کے صدر کی پندرہ روزہ تعطیل سے واپسی کے بعد سرگرمیوں میں کچھ تیزی کے امکانات ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

لکھنؤ: لوک سبھا انتخابات میں شکست فاش کے بعد متعدد مسائل سے گذر رہی سماج وادی پارٹی کے صدر کی پندرہ روزہ تعطیل سے واپسی کے بعد سرگرمیوں میں کچھ تیزی کے امکانات ہیں۔

اکھلیش جون کے وسط میں یورپ گئے تھے اس وقت انہوں نے بی ایس پی کی جانب سے ایس پی کو لوک سبھا انتخابات میں اتحاد کی شکست کا ذمہ دار ٹھہرائے جانے پر کسی بھی قسم کا کوئی تبصرہ نہیں کیا تھا۔اب اکھلیش کے یورپ سے واپسی کے بعد پارٹی لیڈروں وکارکنوں کو متوقع ہے کہ پارٹی اپنی حکمت عملی تیار کرے گی کیونکہ دیگر تمام پارٹیوں نے ہونے والی 12 اسمبلی کے ضمنی انتخابات کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔

ایس پی ذرائع کے مطابق پارٹی صدر چھٹی گذار کر واپس آچکے ہیں۔اب اعلی قیادت میٹنگ اور دیگر سرگرمیوں کے لئے جلد ہی مختلف تاریخوں کااعلان کرے گی۔ذرائع نے بتایا کہ ہم یہ قبول کرتے ہیں کہ زمینی سطح پر ہم پارٹی کارکنوں کے ساتھ میٹنگ کرنے اور ہار کی وجوہات پر تبادلہ خیال نہیں کرسکے وہیں بی جے پی نے اپنی ممبر سازی مہم کا آغاز کردیا ہے تومایاوتی یک بعد یگر میٹنگیں کر کے پارٹی کارکنوں کو نیا حوصلہ دے رہی ہیں۔

ایس پی لیڈر نے بتایا کہ ضمنی انتخابات میں اپنے امیدواراتارنے کے لئے پارٹی تیاری کررہی ہے۔تاہم اعلی قیادت کے تعلق سے پارٹی کارکنان میں مایوسی کا احساس اب گھر کرنے لگا ہے ۔خاص طور سے ایسے باتیں پارٹی کارکنوں کو تکلیف دی رہی ہیں کہ پارلیمنٹ میں اتحاد کا حصہ رہے بی ایس پی سپریمو نے اتحاد کی ہار کے لئے ایس پی کو ذمہ دار ٹھہرایا لیکن پارٹی صدر نے اس کے جواب میں ایک بھی لفظ تک نہیں کہا یہاں تک بی ایس پی لوک سبھا میں یادو اکثریتی حلقوں غازی پور،مئو اور لال گنج میں جیت درج کی۔

گذشتہ پانچ سالوں میں تین انتخابات میں شکست کا سامنا کرنے والے سماج وادی پارٹی صدر اکھلیش یادو کے سامنے اب پارٹی کو دوباہ کھڑا کرنے کا مشکل کام ہے۔اکھلیش بار بار پارٹی کیڈر سے 2022 اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے لئے حوصلہ دے رہے ہیں لیکن لوک سبھا انتخابات میں شکست سے دلبرداشتہ کارکنوں میں کوئی جوش دکھائی نہیں دے رہا ہے۔

سماج وادی پارٹی کے ایک سینئر لیڈر کے مطابق لوک سبھا انتخابات میں شکست فاش کے بعد سماج وادی پارٹی نے ابھی تک کوئی جائزہ میٹنگ نہیں کی ہے اسے ابھی جائزہ میٹنگ بھی کرنا ہے جبکہ دیگر سیاسی پارٹیوں نے جائزہ میٹنگ کر کے جیت و ہار پر خور غوض کر کے آگے کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔اس وقت سماج وادی پارٹی اپنے سب سے خراب وقت سے گذرر ہی ہے۔

لوک سبھا انتخابات میں اکھلیش یادو کا بی ایس پی سے اتحاد کر کے الیکشن لڑنے کا فیصلہ بھی پارٹی کے حق میں صحیح ثابت نہیں ہوا اور پارٹی صرف پانچ سیٹوں پر ہی جیت درج کرسکی۔